افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ قانون عبدالحکیم شرعی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کابل انتظامیہ کے بعض وزراء کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ برسرِاقتدار نہ رہے تو کچھ وزراء اپنی موجودہ ہیئت بدل کر فوری طور پر مغربی لباس (ٹائی) اپنانے میں دیر نہیں کریں گے۔
قندھار میں ایک عسکری ورکشاپ کے دوران دیے گئے اس بیان کو مبصرین طالبان کے طاقتور وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی پر ایک واضح اور بالواسطہ حملہ قرار دے رہے ہیں، جس سے طالبان کی صفوں میں جاری نظریاتی اختلافات اور حقانی نیٹ ورک پر قندھار کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی قلعی کھلتی ہے۔
صوبائی ہال میں ٹریفک پولیس اور عسکری اہلکاروں کی اس ورکشاپ میں تقریباً 800 فوجی جوان موجود تھے۔ عبدالحکیم شرعی نے اپنے خطاب میں بعض وزراء پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ وزراء کے پاس زخمی یا بیمار ‘مجاہدین’ کی عیادت کا وقت تو نہیں ہوتا، لیکن وہ کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے وقت ضرور نکال لیتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے افغانستان: 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط مان لیں
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیرِ قانون کا اشارہ واضح طور پر وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی طرف تھا، جنہوں نے حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی شاپور زدران کے گھر جا کر ایک تعزیتی تقریب میں شرکت کی تھی۔ سراج الدین حقانی اس سے قبل بھی متعدد کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
اخوندزادہ کی قیادت اور نظام کا تحفظ
عبدالحکیم شرعی نے قیادت کے کردار اور طالبان انتظامیہ کے اصولوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کو برقرار رکھنے اور پالیسیوں سے حکام کی وفاداری یقینی بنانے کے لیے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی موجودگی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر کے بغیر کچھ وزراء اپنی وضع قطع تبدیل کرنے میں چند لمحے بھی نہیں لگائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق 11 گھنٹے جاری رہنے والے اس طویل سیمینار میں حج و اوقاف کے وزیر نور محمد ثاقب، نائب وزیر محمد حامد حسیب، قندھار کے گورنر ملا محمد شیریں سمیت اعلیٰ مذہبی و عدالتی حکام نے شرکت کی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت شرکاء کو ہال کے اندر موبائل فون یا کیمرے لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ فرائض، عوامی رویوں، احتسابی عمل اور شریعت کی پاسداری جیسے اخلاقی امور پر گفتگو کرنا تھا، جہاں مقررین نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اندرونی اختلافات سے بچیں اور تقویٰ اختیار کریں۔
حقانی اور قندھار گروپ میں پرانا تنازع
وزیرِ قانون کا یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو ان کی رہائش گاہ اور دفتر سے بے دخل کرنے کے معاملے اور بعض تاجروں پر مبینہ دباؤ ڈالنے کے سوال پر سراج الدین حقانی اور عبدالحکیم شرعی کے درمیان پہلے ہی اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے طالبان دور میں افغان میڈیا شدید بحران کا شکار، صحافیوں پر دباؤ میں اضافہ
سراج الدین حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ بھی ہیں، طالبان کے ان اعتدال پسند رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں جو ملکی و بین الاقوامی سطح پر لچکدار خارجہ پالیسی اور دنیا کے ساتھ وسیع تر روابط کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس، وزیرِ تعلیم ندا محمد ندیم اور وزیرِ قانون عبدالحکیم شرعی جیسے رہنما، جو قندھار کی مرکزی قیادت کے قریب سمجھے جاتے ہیں، حقانی کے اس مفاہمت پسندانہ رویے کے سخت مخالف ہیں۔
حقانی نیٹ ورک کے اختیارات میں کمی
گزشتہ تین برسوں کے دوران امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کابل اور دیگر صوبوں میں حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو بتدریج محدود کیا ہے۔ اس سلسلے میں حقانی نیٹ ورک کے زیرِ اثر خصوصی فوجی یونٹ ‘بدری 313’ کے کئی اہم ہتھیار اور سازوسامان قندھار منتقل کیے جا چکے ہیں، جب کہ سراج الدین حقانی کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات کو بھی کم کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں بھی یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امیر اخوندزادہ نے سراج الدین حقانی کے بھائی حافظ عزیز الدین حقانی کو ‘بدری 313’ یونٹ کی سرگرمیوں پر بازپرس کے لیے قندھار طلب کیا تھا، اور بعد ازاں انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
اگرچہ طالبان کی مرکزی قیادت ہمیشہ ان رپورٹوں کی تردید کرتی آئی ہے اور تنظیم کے اندر کسی بھی قسم کے دھڑے بندی کے تاثر کو یکسر مسترد کرتی ہے، تاہم وزیرِ قانون کے اس تازہ ترین بیان نے اندرونی کشمکش کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے۔












