افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت ملک کا میڈیا ایک گہرے اور کثیرالجہتی بحران کا شکار ہے، جہاں صحافیوں کی گرفتاریاں، تشدد، سنسرشپ اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تنظیم نے ’خوف اور سنسرشپ کے سائے تلے‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں 10 جون سے 10 جولائی 2026 کے دوران افغانستان بھر میں میڈیا کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی خبروں کی تردید، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ جعلی قرار
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں صحافیوں کو من مانی گرفتاریوں، بدسلوکی، تشدد اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
اے ایم ایس او کا کہنا ہے کہ بعض صحافیوں کو سرکاری تقریبات کی کوریج کے بعد طالبان انٹیلی جنس نے حراست میں لیا، جبکہ کچھ کو معمولی تنازعات پر بھی گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
طالبان په داسې حال کې د رسنیو او خبریالانو د ملاتړ خبره کوي چې واک ته له ستنېدو وروستهیې په تېرو ۵ کلونو کې پر ازادو رسنیو او خبریالانو سخت محدودیتونه لګولي، معلوماتو ته لاسرسی یې محدود کړی او د دې وضعیت له امله سلګونه رسنۍ تړل شوي.https://t.co/0hS0Obi3XT
— Azadi Radio (@PazadiRadio) July 15, 2026
رہائی پانے والے صحافیوں کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر خاموش رہنے، شکایت نہ کرنے اور میڈیا سے بات نہ کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے صحافیوں میں خوف اور خود ساختہ سنسرشپ میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں طالبان کے سرکاری ترجمانوں کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
تنظیم کے مطابق سرکاری معلومات اکثر دفتری اوقات کے بجائے رات گئے یا ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں، جس سے صحافیوں کے لیے معلومات تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: فیکٹ چیک: افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا مہم کیسے بے نقاب ہوئی؟
رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے بھی میڈیا سرگرمیوں میں مداخلت بڑھا دی ہے۔
بعض ریڈیو اسٹیشنوں کو خواتین کی آواز نشر کرنے پر تنبیہ کی گئی، جبکہ صحافیوں پر داڑھی رکھنے اور طالبان کی ہدایات کے مطابق ظاہری حلیہ اختیار کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا
اے ایم ایس او کے مطابق طالبان نے صحافیوں کو افغانستان کی معاشی مشکلات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، طالبان رہنماؤں کے اختلافات اور سیکیورٹی واقعات سے متعلق خبریں شائع کرنے سے بھی روک رکھا ہے۔
بعض صحافیوں کو ایسی خبریں شائع کرنے پر گرفتاری یا معطلی کی دھمکیاں دی گئیں۔
Journalists in Afghanistan face rising arrests, intimidation and official interference under Taliban rule, the Afghanistan Media Support Organization warns, calling the environment increasingly hostile for the press. pic.twitter.com/2XlBzSpwfj
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) July 13, 2026
رپورٹ میں سرکاری دفاتر میں اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی کو بھی صحافتی کام میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں مسلسل کمی، معلومات تک رسائی پر پابندیاں، صحافیوں پر بڑھتا ہوا سکیورٹی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ اور سخت ہوتی سنسرشپ افغانستان میں آزاد میڈیا کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔














