پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں انڈیکس نے کاروبار کے دوران منفی اور مثبت دونوں رجحانات اختیار کیے، تاہم پہلے نصف کے اختتام تک مارکیٹ مثبت زون میں واپس آگئی۔
دوپہر 12 بجے تک کے ایس ای-100 انڈیکس 74.50 پوائنٹس یعنی 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 178,198.06 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اس سے قبل جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے روز بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی سے متعلق امیدوں نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,837.78 پوائنٹس یعنی 1.62 فیصد بڑھ کر 178,123.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔
Market is up at midday 🔼
⏳ KSE 100 is positive by +71.89 points (+0.04%) at midday trading. Index is at 178,195.46 and volume so far is 119.3 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/AJJVs4avsj— Investify Pakistan (@investifypk) July 17, 2026
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعہ کو کاروبار کا آغاز غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہوا۔ ایشیائی حصص بازاروں پر چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز میں فروخت کے دباؤ کے باعث منفی اثرات مرتب ہوئے، جبکہ مشرق
وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب خام تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کے دوران اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
ماہرین کے مطابق اس ہفتے سرمایہ کاروں نے سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے بجائے بینکاری سمیت دیگر شعبوں کا رخ کیا، جس کی وجہ بڑے بینکوں کے بہتر مالی نتائج رہے۔ اسی سبب ایشیائی منڈیاں، جہاں چپ ساز کمپنیوں کا وزن زیادہ ہے، دباؤ کا شکار رہیں۔
جاپان کے علاوہ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.06 فیصد کمی کا شکار رہا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 2.8 فیصد گر گیا۔

امریکا میں نیسڈیک فیوچرز 0.7 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں بھی 0.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ادھر جنوبی کوریا کی مالیاتی منڈیاں سرکاری تعطیل کے باعث بند رہیں۔ حکومت نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے کے لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک نئے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز، کی ۔۔لسٹنگ عارضی طور پر روک دی جائے گی۔
جبکہ ان میں سرمایہ کاری کرنے والے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم سیکیورٹی ڈپازٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے














