پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ثالث کے طور پر ابھرنے کے بعد عالمی منڈیوں میں استحکام کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدے نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جس سے سونا، چاندی اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان حالات میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ماہرین کا اس پر کیا کہنا ہے؟
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت
جنگ کے بادل چھٹنے سے عالمی اور مقامی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اور عام شہری کاروبار کے لیے منڈیاں تلاش کر رہے ہیں، ایسے میں اسٹاک مارکیٹ کے ماہر شہریار بٹ کا مشورہ ہے کہ موجودہ وقت اسٹاک مارکیٹ کے لیے بہترین ہے۔ جب سیاسی تناؤ کم ہوتا ہے، تو سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں سے نکل کر اسٹاک کی طرف آتے ہیں۔
شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کی امید پر یہ سیکٹرز منافع بخش ہو سکتے ہیں۔ آئی ٹی اور بینکنگ کے شعبوں میں معاشی استحکام سے براہ راست بہتری آتی ہے۔ اگر آپ طویل مدتی منافع چاہتے ہیں، تو مارکیٹ میں آنے والی کسی بھی چھوٹی مندی پر اچھے شیئرز خریدیں۔
انکا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی خبروں نے خام تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ تیل سستا ہونے کا مطلب ہے کہ مہنگائی کم ہوگی اور کمپنیوں کے اخراجات گھٹیں گے، جو براہ راست اسٹاک مارکیٹ کو فائدہ پہنچائے گا۔
سونا اور چاندی میں سرمایہ کاری اور محتاط حکمت عملی
چئیرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچرز ایسوسی ایشن محمد ارشد کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے دوران سونے کی قیمتیں گرنا شروع ہوئی اسکی وجہ انہوں نے سرمایہ کاروں کی جانب سے تیل میں سرمایہ لگانے کو قرار دیا۔ انکا کہنا ہے کہ جب تیل کی قیمتیں اوپر جانے لگیں تو سرمایہ کار منافع کمانے اس طرف چل پڑے اب جبکہ پاکستان کی ثالثی سے جنگ کا خطرہ ٹل رہا ہے، سونے کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
کب سرمایہ لگائیں؟
محمد ارشد کا کہنا ہے کہ سونے میں فوری بڑی سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ اسکے بجائے اسٹاک، سونا، چاندی اور پراپرٹی میں ایک ساتھ سرمایہ لگائیں تا کہ کسی ایک طرف سے ہونے والا نقصان دوسری طرف سے پورا ہو سکے۔
چاندی
ان کے مطابق چاندی کو انڈسٹریل میٹل بھی کہا جاتا ہے۔ معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے چاندی کی صنعتی طلب بڑھے گی، اس لیے چاندی میں سرمایہ کاری سونے کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا ثالثی کا کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بچت کا 60 فیصد حصہ اسٹاکس میں اور 40 فیصد سونا چاندی یا پراپرٹی میں اس وقت لگائیں جب ان کی قیمتوں میں واضح کمی آئے۔













