بلوچستان میں خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کیے گئے بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 500 خواتین نے تربیت کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو سرٹیفکیٹس، ٹیبلیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ضروری بزنس ٹول کٹس بھی فراہم کی گئیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس پروگرام کو صوبے میں خواتین کی معاشی بااختیاری کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس منصوبے کو مزید اضلاع تک توسیع دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں۔
پروگرام کے تحت خواتین کو کاروباری منصوبہ بندی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال، مارکیٹنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار چلانے سے متعلق عملی تربیت دی گئی۔ یہ تربیت مرحلہ وار مختلف اضلاع میں فراہم کی جا رہی ہے تاکہ خواتین اپنے علاقوں میں کاروبار قائم کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کا حقیقی طریقہ انہیں ہمدردی یا امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی مہارتیں اور وسائل دینا ہے جن کی مدد سے وہ خود اپنے کاروبار چلا سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بنیں۔
بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل پر تمام باہمت اور باصلاحیت خواتین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ، خواتین کو جدید کاروباری مہارتوں، ڈیجیٹل ٹولز اور کاروباری مواقع سے جوڑنا حکومت بلوچستان کے ویژن کا اہم حصہ ہے۔ ہماری حکومت خواتین کی معاشی… https://t.co/TQPCjvic8E
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) July 17, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک مرحلے تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خواتین کی معاشی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر گوادر میں خواتین کے لیے خصوصی مارکیٹ بھی قائم کی گئی ہے، جہاں 14 دکانیں مقامی خواتین کو کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ہیں۔
خواتین کے کاروباری منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈومنٹ فنڈ کے حجم میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت فنڈ کو 50 لاکھ روپے تک بڑھایا گیا ہے تاکہ خواتین اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے سکیں۔
مزید برآں، بلوچستان میں خواتین کاروباری افراد کے لیے پہلا مصنوعی ذہانت (AI) لیب بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں انہیں جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق بلوچستان میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے جاری یہ اقدامات اس تصور کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے میں ترقی اور خودانحصاری کے عملی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اکثر بلوچستان کی مثبت معاشی اور سماجی پیش رفت کو وہ توجہ نہیں ملتی جو دیگر موضوعات کو حاصل ہوتی ہے۔
اس تناظر میں حکام کا مؤقف ہے کہ صوبے کی اصل کہانی ان خواتین کی کامیابیوں میں نظر آتی ہے جو تربیت حاصل کرکے اپنے کاروبار شروع کرنے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔














