کراچی میں پہلی بار سائیکل ایمبولینس سروس کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس منصوبے کا افتتاح کیا جس کے تحت تنگ گلیوں اور گنجان آباد علاقوں میں مریضوں تک ابتدائی طبی امداد سائیکل کے ذریعے پہنچانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
سائیکل پر نصب خصوصی باکس میں فرسٹ ایڈ کٹ، آکسیجن ماسک، نیبولائزر، شوگر ٹیسٹنگ کٹ اور دیگر طبی سامان رکھا گیا ہے تاکہ مریض کو ابتدائی امداد دی جا سکے جبکہ بعد میں ضرورت پڑنے پر بڑی ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
Welcome to the future, Pakistani style.
The world is building flying ICUs. Karachi's mayor is launching a cycle ambulance.
Only in Pakistan. pic.twitter.com/zcRZ3ygXwT
— OsintTV 📺 (@OsintTV) July 20, 2026
تاہم اس منصوبے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا جدید ایمبولینس نیٹ ورکس، ایئر ایمبولینسز اور تیز رفتار ایمرجنسی سروسز پر سرمایہ کاری کر رہی ہے جبکہ کراچی جیسے کروڑوں آبادی والے شہر میں سائیکل ایمبولینس کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
کئی صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا فلائنگ ایمبولینس کی طرف جارہی جبکہ کراچی میں سائیکل ایمبولینس کا افتتاح ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’قانون بنانے والے ہی قانون توڑنے لگے‘، بغیر ہیلمٹ اور لائسنس کے بائیک چلانے پر صارفین مرتضیٰ وہاب پر برس پڑے
امبر دانش لکھتی ہیں کہ پہلی نظر میں لگا کہ یہ سائیکل ایمبولینس سروس ٹمبکٹو کے کسی دور دراز گاؤں میں شروع کروا رہے ہوں گے جہاں سڑکیں میسر نہیں ہیں لیکن پھر اس ویڈیو میں میئر کراچی کو دیکھا تو حیرانی یوں نہیں ہوئی کہ کراچی کو پستی کی طرف لے جانے کا وژن صرف ان کی ہی جماعت کا ہوسکتا ہے۔
پہلی نظر میں لگا کہ یہ سائیکل ایمبولینس سروس ٹمبکٹو کے کسی دور دراز گاؤں میں شروع کروا رہے ہونگے، جہاں سڑکیں میسر نہیں ہیں۔
لیکن پھر اس ویڈیو میں میئر کراچی کو دیکھا، تو حیرانی یوں نہیں ہوئی کہ #کراچی کو پستی کی طرف لیجانے کا ویژن صرف انکی ہی جماعت کا ہوسکتا ہے۔ pic.twitter.com/gYJFhl3NZa— Amber Danish (@amberdanishh) July 19, 2026
صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ایسے اقدامات پر اکتفا کرنا مسائل کا حقیقی حل ہے یا یہ صحت کے نظام کی کمزوری کو چھپانے کی کوشش ہے؟














