ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

پیر 20 جولائی 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انتالیس دن تک زمین کے مختلف خطوں میں سورج طلوع اور غروب ہوتا رہا، مگر ایک چیز نہیں بدلی، کروڑوں دل ایک ہی گیند کے ساتھ دھڑکتے رہے۔ پھر ایک سو بیس منٹ کی اعصاب شکن جنگ کے بعد جب فائنل کی سیٹی بجی تو صرف ایک ٹورنامنٹ اپنے انجام کو نہیں پہنچا، بلکہ انسانی جذبات کا ایک یادگار باب بھی اختتام پذیر ہوا۔

اسٹیڈیم کی روشنیاں آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگیں۔ سبز میدان پر بکھرے قدموں کے نشان خاموشی میں ڈھل گئے۔ ایک طرف فتح کے نغمے گونج رہے تھے، دوسری جانب شکست کے آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے۔ کہیں ہسپانوی پرچم خوشی سے لہرا رہے تھے تو کہیں ارجنٹائن کی نیلی اور سفید جرسیوں میں لپٹے چہرے حسرت سے افق کو تک رہے تھے۔

کروڑوں لوگوں نے اپنے ٹیلی ویژن بند کیے، موبائل اسکرینیں بجھ گئیں، سوشل میڈیا پر آخری تبصرے بھی خاموش ہو گئے اور دنیا آہستہ آہستہ اپنی معمول کی رفتار پر لوٹنے لگی۔ مگر کچھ لمحے کبھی معمول کا حصہ نہیں بنتے۔ وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جاتے ہیں، اور کچھ ٹورنامنٹ صرف چیمپیئن نہیں بناتے، پوری نسلوں کو نئی کہانیاں دے جاتے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 بھی ایک ایسی ہی داستان تھا۔ انتالیس دن تک مختلف زبانیں، مختلف ثقافتیں، مختلف رنگ اور مختلف قومیتیں ایک ہی جذبے میں سمٹ آئیں۔ کہیں خوشی کے قہقہے تھے، کہیں شکست کی خاموشی، کہیں دعائیں تھیں اور کہیں امیدیں، مگر پوری دنیا ایک ہی کھیل کے سحر میں گرفتار رہی۔

شاید یہی فیفا ورلڈ کپ کا سب سے بڑا کمال ہے۔

یہ دنیا کا واحد کھیل ہے جس میں صرف بائیس کھلاڑی میدان میں نہیں اترتے، بلکہ ان کے ساتھ کروڑوں جذبات بھی دوڑنے لگتے ہیں۔ کسی گھر میں دعا مانگی جا رہی ہوتی ہے، کسی کیفے میں دوست خوشی سے چیخ اٹھتے ہیں، کسی گاؤں میں ننگے پاؤں بچے اپنے آپ کو یامال، میسی یا ایمباپے سمجھ کر گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں، جبکہ کسی مصروف شہر میں سڑکیں اس لیے سنسان ہو جاتی ہیں کہ فیصلہ کن لمحہ اسکرین پر آنے والا ہوتا ہے۔

خبروں کے شور، جنگوں کی سرخیوں، سیاست کی تلخیوں اور معاشی خدشات کے درمیان اچانک ایک گیند پوری انسانیت کی مشترکہ زبان بن جاتی ہے۔ ایسی زبان، جس کے لیے نہ مترجم درکار ہوتا ہے اور نہ لغت۔ ایک خوبصورت پاس، ایک شاندار سیو، ایک فیصلہ کن گول یا کسی کھلاڑی کے آنسو دنیا کے ہر کونے میں ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ شمالی امریکا کے اسٹیڈیم صرف تماشائیوں سے نہیں بھرے تھے، وہاں پوری دنیا سمٹ آئی تھی۔ اسپین کے سرخ پرچم، ارجنٹائن کی نیلی و سفید دھاریاں، مراکش کے ولولہ انگیز نعرے، ناروے کی امیدیں، فرانس کی ضد، انگلینڈ کا انتظار، برازیل کا جادو، ایران کا جذبہ اور میکسیکو کے رنگ ۔ ۔ ۔ ۔ سب ایک ہی کہانی کے مختلف باب تھے۔

پھر وقت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ کسی نے ٹرافی اٹھائی، کسی نے آنسو پونچھے، کسی نے اپنے آخری ورلڈ کپ کو الوداع کہا اور کسی نوجوان نے اپنے پہلے عالمی سفر میں تاریخ کے دروازے پر دستک دے دی۔

مگر ذرا ٹھہر کر سوچیے، کیا واقعی اس ورلڈ کپ کا فاتح صرف اسپین تھا؟

ٹرافی یقیناً اسپین کے حصے میں آئی، تمغے ہسپانوی کھلاڑیوں کے گلے میں سجے اور قومی ترانہ بھی اسپین کا بجا، مگر اس عالمی میلے کا اصل فاتح شاید فٹبال خود تھا۔

فٹبال کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ صرف میچ نہیں جیتتا، دل بھی جیت لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ کپ کا اختتام ٹرافی اٹھانے والی ٹیم پر نہیں ہوتا، بلکہ ان یادوں پر ہوتا ہے جو برسوں تک شائقین کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔

اس ٹورنامنٹ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فٹبال محض ایک کھیل نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی مشترکہ میراث ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جو زبان، نسل، رنگ، مذہب اور جغرافیے کی تمام سرحدیں عبور کرلیتا ہے۔ گیند جب میدان میں گردش کرتی ہے تو چند لمحوں کے لیے سیاست، اختلاف اور فاصلے سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور پوری دنیا صرف کھیل کی خوبصورتی میں کھو جاتی ہے۔

ورلڈ کپ 2026 نے ہمیں ایک اور حقیقت بھی یاد دلائی کہ وقت کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ کل تک اسٹیڈیموں میں لیونل میسی کے نام کے نعرے سب سے بلند تھے، مگر اب ایک نئی نسل اپنے ہیروز تلاش کر رہی ہے۔ یہی فٹبال کا فطری سفر ہے، ایک عہد رخصت ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے۔

اس بار بھی کئی ٹیمیں ٹرافی تو نہ جیت سکیں، مگر عزت اور احترام ضرور لے کر واپس گئیں۔ مراکش نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ عزم وسائل سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ ناروے نے واضح کر دیا کہ اب اسے عالمی فٹبال میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ انگلینڈ، فرانس، برازیل اور مصر جیسی مضبوط ٹیموں نے بھی ایسے لمحات تخلیق کیے جو اس ورلڈ کپ کی تاریخ کا حصہ بن گئے۔

ہر ورلڈ کپ صرف ایک نئی چیمپیئن ٹیم ہی نہیں دیتا بلکہ فٹبال کو نئے ستارے بھی عطا کرتا ہے، جو برسوں تک اس کھیل کی شناخت بنے رہتے ہیں۔ 2026 کا عالمی کپ بھی اسی روایت کو آگے بڑھا گیا۔

لامین یامال نے کم عمری میں جس اعتماد، مہارت اور پختگی کا مظاہرہ کیا، اس نے واضح کر دیا کہ عالمی فٹبال کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ دوسری جانب کیلیان ایمباپے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ غیرمعمولی رفتار، تکنیک اور گول کرنے کی صلاحیت اسے اب بھی دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں شامل رکھتی ہے۔ اگرچہ اس بار ٹرافی اس کے ہاتھ نہ آئی، لیکن اس کی کارکردگی نے اس کے مقام کو مزید مستحکم کیا۔

ادھر ایرلنگ ہالینڈ نے ناروے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ احساس دلایا کہ بعض اوقات ایک عظیم کھلاڑی صرف گول نہیں کرتا بلکہ پورے ملک کی شناخت بدل دیتا ہے۔ اس کی موجودگی نے ناروے کو عالمی فٹبال کے نئے طاقتور کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔

یہی فٹبال کی خوبصورتی ہے۔ ایک زمانہ میسی اور رونالڈو کا تھا، پھر ایمباپے اور محمد صلاح نئی صدی کی علامت بن کر ابھرے، اور اب لامین یامال، ہالینڈ اور دوسرے نوجوان ستارے اس کہانی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ فٹبال کبھی کسی ایک نام پر نہیں رکتا، ہر نسل اپنی شناخت اور اپنے ہیرو خود تخلیق کرتی ہے۔

کھیل کے میدانوں میں بھی موسم بدلتے ہیں۔ کبھی ایک نام پوری دنیا پر چھا جاتا ہے، پھر ایک دن وہی نام نئی نسل کے لیے ایک خوبصورت یاد بن جاتا ہے۔ لیونل میسی کی مسکراہٹ، اس کی ڈربلنگ، جادوئی پاس اور غیرمعمولی قیادت نے قریب دو دہائیوں تک فٹبال کی دنیا کو مسحور کیے رکھا۔ اس ورلڈ کپ میں بھی اس نے اپنی ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، مگر آخری شب قسمت اسپین کے ساتھ تھی۔ میسی ہارا ضرور، مگر اس کا عہد شکست سے نہیں، عظمت کی ایک اور یادگار تصویر کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔

اسی لمحے ایک نئی صبح بھی طلوع ہوئی۔ لامین یامال نے صرف اپنی صلاحیتوں سے نہیں، بلکہ اپنے اعتماد سے بھی یہ پیغام دیا کہ فٹبال کا مستقبل روشن ہے۔ ایمباپے اب بھی اپنی برق رفتاری اور مہلک فنشنگ سے دفاعی کھلاڑیوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے، جبکہ ایرلنگ ہالینڈ اپنی طاقت اور جارحانہ انداز سے عالمی فٹبال میں ایک نئی قوت کی علامت بن چکا ہے۔ یہ تینوں صرف کھلاڑی نہیں، اس نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو آنے والے برسوں میں اس کھیل کی سمت متعین کرے گی۔

فٹبال کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں ستارے غروب ضرور ہوتے ہیں، مگر آسمان کبھی خالی نہیں رہتا۔ ایک لیجنڈ رخصت ہوتا ہے تو دوسرا جنم لے لیتا ہے۔ یہی تسلسل اس کھیل کو ہمیشہ جوان رکھتا ہے اور ہر ورلڈ کپ کو ایک نئی کہانی عطا کرتا ہے۔

فائنل کی آخری سیٹی بج چکی ہے۔ ٹرافی اپنے نئے گھر پہنچ چکی ہے۔ اسٹیڈیم خاموش ہیں، گیلریاں خالی ہو چکی ہیں، جھنڈے لپیٹے جا چکے ہیں اور دنیا ایک بار پھر اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مگر کچھ آوازیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔ کسی بچے کی پہلی کک، کسی گلی میں اچھلتی ہوئی پرانی گیند، کسی دیوار پر میسی، ایمباپے، ہالینڈ یا لامین یامال کی تصویر، اور کسی ننھے خواب دیکھنے والے کے دل میں اگلے ورلڈ کپ کی خواہش ۔ ۔ ۔ ۔

شاید یہی فیفا ورلڈ کپ کی اصل پہچان ہے۔ یہ صرف ایک عالمی ٹورنامنٹ نہیں، بلکہ امید، جذبے اور انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی ایک لازوال داستان ہے، جو ہر چار برس بعد نئے کرداروں، نئے خوابوں اور نئی امنگوں کے ساتھ دوبارہ لکھی جاتی ہے۔

فائنل کی سیٹی ضرور بج جاتی ہے، مگر فٹبال کی کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی۔

کیونکہ کچھ کھیل اختتام پذیر ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی داستانیں اگلے ورلڈ کپ تک دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp