نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا آر ایس ایس سربراہ کی تقریب کی حمایت سے انکار

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اپنے شہر میں ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی شرکت سے ہونے والی آئندہ تقریب کی حمایت سے انکار کردیا۔

موہن بھاگوت کو 29 اگست کو مین ہٹن میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرنا ہے، تقریب کی ویب سائٹ کے مطابق اسے ’یونیورسل آنی نس سیلیبریشن‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ہندو امریکی برادری کو شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

میئر ظہران ممدانی سے جب تقریب منسوخ کیے جانے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس ریلی کی حمایت نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک: یہودی رہنماؤں کا میئر ظہران ممدانی سے ملاقات میں اسرائیل سے متعلق بیانات پر تحفظات کا اظہار

‘تاہم مجھے نہیں معلوم کہ شہر کو کسی نجی تقریب کو منسوخ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔’

نیویارک کے پہلے مسلمان اور بھارتی نژاد امریکی میئر ممدانی نے کہا کہ ان کے خاندان نے انہیں بھارت کا جو تصور دیا اور جس ماحول میں وہ بڑے ہوئے، وہ ایک کثیرالثقافتی اور سیکولر جمہوریہ کا تصور تھا، جہاں ہر بھارتی شہری کو مساوی حیثیت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسی تحریک کا ابھرنا انتہائی تشویشناک ہے جس کی بنیاد ایک ایسے نظریے پر ہے جو بعض طبقات کو خارج کرنے پر مبنی ہے۔

تقریب کا انعقاد ’امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ‘ نامی تنظیم کر رہی ہے، منتظمین کا کہنا ہے کہ متعدد ہندو امریکی تنظیمیں اس تقریب کی حمایت کر رہی ہیں اور اس کا مقصد مشترکہ ثقافتی ورثے اور بین المذاہب اتحاد کو فروغ دینا ہے۔

تاہم متعدد مقامی تنظیموں نے موہن بھاگوت کی شرکت اور آر ایس ایس کے ماضی کے کردار کے باعث تقریب پر تنقید کی ہے۔

آر ایس ایس ایک بااثر ہندو تنظیم ہے، جس سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نظریاتی تعلق ہے۔

مزید پڑھیں: نیویارک میئر ظہران ممدانی فوجی اہلکار کی آخری رسومات میں نظر انداز، شدید برہمی میں گھر واپس لوٹ گئے

تنظیم نے رواں سال مئی میں کہا تھا کہ اس نے امریکا سمیت بیرون ملک دوروں کا اہتمام کیا تاکہ اس تاثر کا مقابلہ کیا جا سکے کہ آر ایس ایس ایک نیم فوجی تنظیم ہے اور اقلیتی برادریوں کے خلاف حملوں میں ملوث رہی ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق آر ایس ایس کئی دہائیوں سے اقلیتی گروہوں کے خلاف ’انتہائی تشدد اور عدم برداشت‘ کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔

تاہم آر ایس ایس ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے خود کو ایک ’ہندو مرکز تہذیبی اور ثقافتی تحریک‘ قرار دیتی ہے، جس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرکے ملک کو عروج کی جانب لے جانا ہے۔

مزید پڑھیں: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی پاکستانی گلوکار شمعون اسماعیل کے مداح نکلے

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران اقلیتوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان اداروں نے نفرت انگیز تقاریر میں اضافے، مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون، مسلمانوں کی ملکیتی املاک کی مسماری، مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کیے جانے اور مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp