اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کا بینک نوٹ ختم کرنے کی سفارش کردی ہے، مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر نے یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں بتائی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے جعلی نوٹ بینک اے ٹی ایمز سے نکلنے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کے عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن اور اجرا کی نگرانی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی سطح پر غذائی مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، پاکستان بھی متاثر ہوگا، اسٹیٹ بینک
وزارتی کمیٹی نئے نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے چکی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک ان نوٹوں میں مطلوبہ سکیورٹی خصوصیات یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ نئے کرنسی نوٹوں کی مالیت کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
SBP proposes replacing Rs10 banknote with coin in new currency series The State Bank of Pakistan (SBP) has proposed removing the Rs10 banknote from the country’s next series of currency and retaining the denomination in coin form.
SBP Deputy Governor Dr Inayat Hussain shared the…
— RV Global Reset (@Ldyheart) August 25, 2026
سینیٹر عبدالقادر کے سوال پر ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ 5 ہزار روپے کا ایک نوٹ تیار کرنے پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے۔
اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا عمل دنیا میں کہیں نہیں ہوتا اور کمیٹی کو ٹینڈر سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔
مزید پڑھیں: محمد علی ملک اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر
انہوں نے کمیٹی کو کرنسی کی تیاری کے عمل پر کسی بین الاقوامی بینک نوٹ پرنٹنگ کمپنی سے بریفنگ دلانے کی تجویز بھی دی۔
سینیٹر شاہ زیب درانی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک گزشتہ 2 سال سے نئے کرنسی نوٹوں پر کام کر رہا ہے لیکن اب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2 سال گزرنے کے باوجود مرکزی بینک یہ کام مکمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے ریمارکس دیے کہ انہیں توقع نہیں کہ موجودہ سینیٹرز کی مدت کے دوران نئے کرنسی نوٹ جاری ہوسکیں گے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 17.04 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نئے نوٹ متعارف ہونے کے بعد جعلی کرنسی کی تیاری روکنے کے لیے کیا ضمانت موجود ہوگی۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کرنسی کی تیاری کے پورے عمل کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا اور نیا نظام جعلی نوٹوں کی تیاری میں نمایاں کمی لانے میں مدد دے گا۔
حکام کے مطابق نئے بینک نوٹ کا ابتدائی ڈیزائن پہلے دستی طور پر تیار کیا جائے گا، جس کے بعد اسے مشینی عمل کے ذریعے نوٹوں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کمیٹی نے نئے کرنسی نوٹوں کے ٹینڈرنگ کے عمل کی تفصیلات اور بینکاری نظام کے ذریعے جعلی کرنسی کو گردش میں آنے سے روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔














