پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے چیئرمین خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات گزشتہ 75 برسوں کے دوران ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی حالیہ بین الاقوامی تاریخ میں کم ہی مثالیں ملتی ہیں۔
وہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ کے موقع پر انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے اشتراک سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب میں چین کے قونصل جنرل سن یان، انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے بانی صدر ظفرالدین محمود، بی این یو کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے ڈائریکٹر سفیر منصور احمد خان سمیت سفارت کاروں، دانشوروں، ماہرین پالیسی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔
چینی انقلاب نے دنیا کو نیا ماڈل دیا
اپنے کلیدی خطاب میں خورشید محمود قصوری نے عالمی انقلابات کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 1949 کا چینی انقلاب اپنی نوعیت میں منفرد تھا۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین ماؤ زے تنگ نے مارکسزم کو چین کے معاشرتی حالات کے مطابق ڈھالتے ہوئے کسانوں اور دیہی آبادی کو انقلاب کی بنیادی قوت بنایا، جبکہ تاریخی لانگ مارچ عزم، استقامت اور طویل جدوجہد کی علامت بن گیا۔
انہوں نے کہاکہ ماؤ زے تنگ کے بعد ڈینگ ژیاو پنگ نے چین کی معاشی ترقی کو نئی سمت دی اور ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جنہوں نے چین کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔
ڈینگ ژیاو پنگ کی عملی سوچ نے چین کو بدل دیا
خورشید محمود قصوری نے ڈینگ ژیاو پنگ کا مشہور مقولہ “بلی کالی ہو یا سفید، اس سے فرق نہیں پڑتا، بشرطیکہ وہ چوہے پکڑتی ہو” نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس سوچ کی بنیاد نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی نتائج تھے۔
انہوں نے کہاکہ چین نے اسی فلسفے کے تحت زرعی شعبے میں اصلاحات کیں، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اپنے دروازے کھولے اور ریاستی منصوبہ بندی کے ساتھ مارکیٹ کے بعض اصولوں کو ہم آہنگ کرکے ایسا معاشی ماڈل تشکیل دیا جس نے لاکھوں نہیں بلکہ تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکال دیا۔
ان کے بقول انسانی تاریخ میں غربت کے خاتمے کی اتنی بڑی اور منظم کوشش اپنی مثال آپ ہے۔
چین نے پہلے اپنی طاقت بنائی، پھر عالمی کردار ادا کیا
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈینگ ژیاو پنگ نے چین کو یہ حکمت عملی دی کہ اپنی قوت کو غیر ضروری طور پر نمایاں نہ کیا جائے، مناسب وقت کا انتظار کیا جائے اور عالمی قیادت کے حصول میں جلد بازی سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ اسی پالیسی کے نتیجے میں چین نے کئی دہائیوں تک اپنی توجہ داخلی معاشی ترقی، صنعتی تعمیر، سائنسی تحقیق اور قومی صلاحیت بڑھانے پر مرکوز رکھی، جس نے اسے آج دنیا کی بڑی اقتصادی اور تزویراتی طاقتوں میں شامل کر دیا ہے۔
شی جن پنگ کے دور میں چین کا عالمی کردار مزید مضبوط ہوا
خورشید محمود قصوری نے کہاکہ صدر شی جن پنگ کے دور میں چین پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، خوداعتماد اور عالمی معاملات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری کا تصور موجودہ چینی قیادت کی اسی متحرک پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاک چین تعلقات ہر دور میں مضبوط رہے
خورشید محمود قصوری نے کہاکہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران عالمی اتحاد تبدیل ہوتے رہے، سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور علاقائی سیاست نے کئی نئی شکلیں اختیار کیں، تاہم پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد اور دوستی ہمیشہ برقرار رہی۔
انہوں نے 1955 کی بانڈونگ کانفرنس اور 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے مستقبل میں تزویراتی تعاون کے لیے راہ ہموار کی۔
ان کے مطابق سرد جنگ کے دور میں اگرچہ پاکستان مختلف مغربی اتحادوں کا حصہ تھا، تاہم چین نے پاکستان کی سلامتی سے متعلق ضروریات اور مجبوریوں کو ہمیشہ درست تناظر میں سمجھا۔
پی آئی اے، شاہراہ قراقرم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ذکر
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ 1964 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے چین کو مغربی دنیا سے فضائی طور پر جوڑنے میں تاریخی کردار ادا کیا، جبکہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر دونوں ممالک کی مشترکہ قربانیوں کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے اس منصوبے کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاکستانی اور چینی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت میں قائم چینی یادگاری قبرستان پاک چین دوستی کی علامت ہے۔
خورشید محمود قصوری نے کہا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ صرف تیار شدہ مصنوعات فراہم کرنے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعتی صلاحیت پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہیوی مکینیکل کمپلیکس سمیت متعدد منصوبوں کو اس پالیسی کی عملی مثال قرار دیا۔
دفاعی تعاون اور خلائی پروگرام میں چین کا اعتماد
انہوں نے اپنے دورِ وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے کئی اہم منصوبے کامیابی سے مکمل ہوئے، جن میں جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور ایف 22 پی فریگیٹس شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے پُرامن سول جوہری پروگرام میں چین کے تعاون اور اس وقت کے پاکستانی سفیر ریاض محمد خان کی خدمات کو بھی سراہا۔
خورشید محمود قصوری نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں چین کے اس خفیہ خلائی تحقیقی ادارے کا دورہ کرایا گیا جہاں پاکستان کا مواصلاتی سیٹلائٹ تیار کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ پاکستان پر چینی قیادت کے غیر معمولی اعتماد کی واضح مثال تھی۔
امریکا اور چین کے درمیان جنگ ناگزیر نہیں
عالمی تزویراتی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ امریکا اور چین کے درمیان جنگ لازماً ہو کر رہے گی۔
انہوں نے کہاکہ چین کی ہزاروں سال پر محیط تہذیبی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس کی بنیادی ترجیح داخلی استحکام، قومی وحدت اور معاشی ترقی رہی ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کی اس تنبیہ کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے فوجی و صنعتی اتحاد کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خبردار کیا تھا۔
انہوں نے جان میئرشائمر، اسٹیفن والٹ اور گراہم ایلیسن جیسے ماہرین بین الاقوامی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حقیقت پسندانہ سوچ رکھنے والی قیادت دنیا کو ایک تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کامیاب ہوگی۔
پاکستان، بھارت اور چین میں امن پورے خطے کی ضرورت
خورشید محمود قصوری نے کہاکہ پاکستان کی حالیہ سفارتی اور دفاعی کامیابیوں نے اسے جنوبی اور وسطی ایشیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی نئی صلاحیت فراہم کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان پُرامن بقائے باہمی نہ صرف ایک اخلاقی تقاضا بلکہ پورے ایشیا کی معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق اگر ان ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو تو تجارتی روابط مضبوط ہوں گے، علاقائی رابطہ سازی کو فروغ ملے گا اور غربت و پسماندگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ممکن ہو سکیں گی۔
چین کی کامیابی کا راز کیا ہے؟
انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے بانی صدر ظفرالدین محمود نے کہا کہ گزشتہ پچاس برس کے دوران انہوں نے چین کو ایک غریب زرعی معاشرے سے عالمی اقتصادی طاقت بنتے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق چین کی کامیابی کی بنیاد عوام دوست حکمرانی، حالات کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلی، باصلاحیت قیادت کی تیاری اور پُرامن ترقی کے اصول پر کاربند رہنے میں مضمر ہے۔
عوامی روابط مزید مضبوط بنانے کی ضرورت
ڈی ڈبلیو پی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے ڈائریکٹر فاروق نسیم نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور چین کے حکومتی اور تزویراتی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، تاہم عوامی، تعلیمی اور کاروباری سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زبان، ثقافتی تبادلوں، طلبہ کے روابط اور براہ راست کاروباری شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔
سی پیک کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے، فواد حسن فواد
سابق پرنسپل سیکریٹری برائے وزیراعظم فواد حسن فواد نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ابتدا میں ایک مثالی منصوبہ قرار دیا گیا تھا، تاہم پاکستان اب تک اس کی حقیقی صلاحیت کے ایک چوتھائی حصے سے بھی مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکا۔
ان کے مطابق معاشی، صنعتی اور تجارتی فوائد کے حصول کی رفتار توقعات سے کہیں کم رہی۔
بی این یو میں چین اسٹڈیز کے لیے خصوصی چیئر قائم
بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے ڈائریکٹر سفیر منصور احمد خان نے بتایا کہ یونیورسٹی میں چین سے متعلق علمی تحقیق، چینی زبان کی تدریس اور پاکستان چین تعلقات پر سنجیدہ تحقیق کے فروغ کے لیے خصوصی چیئر قائم کی گئی ہے، جس کے تحت اعلیٰ سطحی مکالموں اور علمی سرگرمیوں کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا ہے۔













