کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی کیمپ میں ایک خاموش لائبریری

منگل 21 جولائی 2026
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پارلیمان کے قریب واقع جنتر منتر ان دنوں کاکروچ جنتا پارٹی کی کال پر ملک بھر سے آنے والے طلبہ کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے ساتھ جاری اس احتجاج میں شریک نوجوانوں کی کہانیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کوئی صرف 20 روپے لے کر دہلی پہنچا، کسی نے اپنے اہل خانہ کو بغیر بتائے احتجاج میں شرکت کی، ایک سات سالہ بچی لاٹھی چارج میں زخمی ہونے کے باوجود احتجاجی کیمپ میں موجود ہے۔

احتجاجی کیمپ میں جہاں ایک طرف نعروں اور تقاریر کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، وہیں چند قدم کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی عارضی لائبریری بھی قائم ہے۔ لکڑی کی ایک میز پر رکھی کتابوں میں سے کوئی بھی احتجاج میں شریک طالب علم اٹھا کر پڑھ سکتا ہے۔ صبح کے وقت بھی کچھ نوجوان کتابوں کے مطالعے میں مصروف نظر آئے۔

مہاراشٹر کے ضلع ناندیڑ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کتاب ہاتھ میں لیے بتایا کہ وہ احتجاج کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم پڑھیں گے تبھی معیاری تعلیم کو برقرار رکھ سکیں گے۔ اسی لیے یہاں ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی گئی ہے، تاکہ طلبہ احتجاج کے دوران بھی مطالعہ جاری رکھ سکیں۔ ہمارا مطالبہ صرف امتحانات میں شفافیت نہیں بلکہ معیاری تعلیم کا تحفظ بھی ہے۔

کھلے آسمان تلے گزری رات

شدید گرمی اور حبس کے باوجود درجنوں طلبہ نے رات احتجاجی مقام پر ہی گزاری۔ کوئی فرش پر چادر بچھا کر سو رہا تھا، کسی نے مچھروں سے بچنے کے لیے مچھر دانی لگا رکھی تھی، جبکہ کچھ نوجوانوں نے پوری رات جاگ کر گزاری۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ تھا کہ پولیس دوبارہ کارروائی کر سکتی ہے، اس لیے وہ باری باری پہرہ دیتے رہے۔

میرے پاس صرف 20 روپے تھے

جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شریک ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ صرف 20 روپے جیب میں لے کر اتر پردیش کے شہر پریاگ راج سے دہلی پہنچی۔ طالبہ نے بتایاکہ میرے پاس صرف 20 روپے تھے۔ ان میں سے 10 روپے آٹو کے کرائے پر خرچ کیے اور ریلوے جنکشن پہنچ گئی۔ وہاں سے جنرل ڈبے میں بغیر ٹکٹ سوار ہو گئی۔ جب ٹکٹ چیکر (ٹی ٹی ای) آیا تو اس نے ٹکٹ مانگا، لیکن میرے پاس ٹکٹ نہیں تھا۔ بعد میں اس نے کچھ نہیں کہا اور میں دہلی پہنچ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کسان خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں سے دلبرداشتہ ہو کر احتجاج میں شریک ہوئیں۔ ان کے بقول جس امتحان کے لیے ہم برسوں محنت کرتے ہیں، اگر اس کا پرچہ لیک ہو جائے تو طالب علم کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ہمارے لیے دوبارہ تیاری کرنا اور اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔

یہ کسی ایک جماعت کی تحریک نہیں

احتجاج میں شریک آئی آئی ٹی کانپور کے سابق طالب علم اور لندن سکول آف اکنامکس سے ماسٹرز کرنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ حالیہ واقعات کے بعد احتجاج میں شامل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ آئینی اصولوں کے خلاف تھا، اسی لیے میں یہاں آیا۔ یہ کسی سیاسی جماعت کی تحریک نہیں بلکہ عام طلبہ کی آواز ہے، جو ملک کے مختلف حصوں سے یہاں پہنچے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ احتجاجی روزانہ اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں اور خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمارا مقصد صرف معیاری تعلیم اور شفاف امتحانی نظام کا مطالبہ ہے۔ اگر کہیں غلطیاں ہوئی ہیں تو انہیں درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہماری نیت صاف ہے اور ہمارا ایجنڈا صرف تعلیمی اصلاحات ہے۔

یہ صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں

بہار سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ سواتی نے کہا کہ اگر امتحانات میں شفافیت نہ رہی تو نااہل افراد ڈاکٹر بن جائیں گے، جس کا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر امتحان کا نظام ہی خراب ہوگا تو کل ایسے ڈاکٹر سامنے آئیں گے جن پر لوگوں کی جانوں کی ذمہ داری ہوگی۔ اس لیے یہ صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

ایسے طلبہ بھی جنھوں نے گھر والوں کو نہیں بتایا

احتجاجی کیمپ میں موجود کئی نوجوانوں نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر دہلی پہنچے ہیں۔ ان میں ایک طالبہ بھی شامل تھیں جنھوں نے کہا کہ وہ پریاگ راج میں لائبریری میں پڑھ رہی تھیں جب انھیں احتجاجی رہنما کی گرفتاری کی اطلاع ملی۔ ان کے مطابق، وہ اسی وقت دہلی روانہ ہو گئیں اور ان کے اہل خانہ کو اب بھی معلوم نہیں کہ وہ احتجاج میں شریک ہیں۔

چہرہ اس لیے چھپا رکھا ہے

احتجاج میں شریک ایک نوجوان خاتون نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اپنا چہرہ اس لیے چھپا رہی ہیں کیونکہ انھیں اپنے خاندان اور سماجی حلقے کے ردعمل کا خدشہ ہے۔ان کے مطابق ان کے والد اور خاندان کے دیگر افراد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ ہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ صورتحال پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ نہیں بلکہ غلط کو غلط کہنے کا وقت ہے۔

سات سالہ بچی بھی احتجاج میں

لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والی سات سالہ بچی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھے گی۔ بچی نے اپنی چوٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ اب میں بھی دیکھوں گی کہ وہ کب تک استعفیٰ نہیں دیتے۔ جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔ چاہے تین مہینے لگ جائیں، بارہ مہینے لگ جائیں یا ایک سال، ہم احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

اس نے اپنی چوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دیکھیں، کل لاٹھی چارج کے دوران مجھے چوٹ لگی۔ میں بہت ڈر گئی تھی کہ یہاں لاٹھی چارج ہو رہا ہے، کہیں کوئی مجھے مار نہ دے یا مجھے زیادہ چوٹ نہ لگ جائے۔ بچی نے مزید کہا کہ اس کے والدین نے اسے حوصلہ دیا اور کہاکہ بیٹا، تمہیں مضبوط بننا ہے، تمہیں جانا پڑے گا۔ اسی ہمت کے ساتھ وہ احتجاج میں شریک ہوئی۔

والدین نے قرض لے کر مجھے پڑھنے بھیجا

احتجاج میں شریک ایک طالب علم نے بتایا کہ اس کا تعلق ایک غریب کسان خاندان سے ہے اور وہ صرف انصاف کی امید میں دہلی پہنچا ہے۔ طالب علم نے بتایا کہNEET امتحان کے وقت تین مئی کو میں راجستھان کے شہر کوٹا میں ‘اچیور پلس’ بیچ میں تیاری کر رہا تھا۔ امتحان دینے کے بعد جب اپنے گاؤں واپس پہنچا تو معلوم ہوا کہ پرچہ لیک ہو چکا ہے، حالانکہ میرا امتحان بہت اچھا ہوا تھا۔

اس نے کہا کہ اس کے والد کسان جبکہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ گھر کی مالی حالت انتہائی کمزور ہے۔ والدین نے لوگوں سے قرض لے کر مجھے کوٹا بھیجا تھا تاکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔ یہاں دہلی آنے کے لیے بھی میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ ایک دوست نے صرف 300 روپے دے کر میری مدد کی، جس کی وجہ سے میں یہاں پہنچ سکا۔ طالب علم کے مطابق وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سال NEET، CUET اور IISER سمیت تین امتحانات دیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل تین برس سے NEET کا امتحان دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے 2024، 2025 اور 2026 میں امتحان دیا۔ 2024 میں بھی پرچہ لیک ہوا تھا، جس کے باعث کٹ آف غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی۔ اس سال بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ طالب علم نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ کو بھی ان کے دہلی آنے کا علم نہیں۔ ان کے بقول میرے والدین، بھائی بہن، کسی کو بھی معلوم نہیں کہ میں یہاں احتجاج میں شریک ہوں۔ صرف ایک دوست کو بتایا تھا کہ میں احتجاج میں جا رہا ہوں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میں بنگال سے آنے والی ٹرین کے جنرل ڈبے میں، واش روم کے قریب بیٹھ کر بغیر ٹکٹ دہلی پہنچا کیونکہ میرے پاس کرایہ دینے کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ میرے دوست نے صرف 200 روپے دیے تھے، جن کے سہارے میں یہاں تک آیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ 26 دن گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا، پھر بھی احتجاج جاری رکھنے کی امید کیوں ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اب بھی انصاف کی امید ہے۔ اسی امید کے ساتھ یہاں موجود ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری آواز سنی جائے۔

احتجاجی مقام پر دہلی پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ نارنجی جیکٹس پہنے فوٹوگرافر بھی موجودہیں، جو احتجاج کے ہر مرحلے اور سرگرمی کی عکس بندی کر رہے ہیں۔  لاٹھی چارج کے بعد طلبہ نے احتجاجی مقام پر صفائی بھی کی اور منتشر ہونے والے سامان کو دوبارہ ترتیب دیا۔

احتجاجی کیمپ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی پہنچیں اور طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ احتجاج کے دوران انجینئر اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال اور منیش سسودیا، آزاد سماج پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا، سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمان ڈمپل یادو اور سابق کرکٹر و کانگریس رہنما کیرتی آزاد بھی جنتر منتر پہنچے۔ بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے اداکارہ شبانہ اعظمی اور اداکار پرکاش راج نے بھی احتجاجی طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ متعدد دیگر فلمی شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج کے حق میں اپنی آواز بلند کی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے