آج سے لگ بھگ پندرہ سو سال قبل، یمن کے بادشاہ ’ذونواس‘ نے نجران کے عیسائیوں کو بہت تنگ کر رکھا تھا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دیں اور یہ لوگ یمن کے نزدیک آباد تھے۔ اس دھمکی کے بعد ’دوس‘ نامی ایک شخص بھاگ کر قیصرِ روم کے پاس جاتا ہے اور اسے سارا ماجرا بیان کرتا ہے۔ قیصرِ روم خود بھی عیسائی تھا۔
روم اور یمن کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ اس لیے قیصرِ روم نے حبشہ کے بادشاہ ’نجاشی‘ کو خط لکھا کہ وہ ’ذونواس‘ سے نصارائے نجران کا انتقام لے اور اس خط کو اسی شخص کے ہاتھ نجاشی کو روانہ کر دیا۔
نجاشی نے 70 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل لشکر ترتیب دیا جس کی کمان ’اریاط‘ نامی شخص کو سونپی۔ ابرہہ بھی اسی لشکر کا ایک افسر تھا۔ اریاط نے ’ذونواس‘ کو شکست دے کر یمن پر اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا، لیکن کچھ ہی مدت کے بعد ابرہہ نے بغاوت کر دی، اریاط کو شکست دی اور خود یمن کا حکمران بن بیٹھا۔
نجاشی کو ابرہہ کی بغاوت کا علم ہوا تو اس نے ابرہہ کی سرکوبی کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ابرہہ نے اسے اپنے سر کے بال یمن کی مٹی کے ساتھ ملا کر تسلیم اور وفاداری کی علامت کے طور پر بھیج دیے۔ یوں نجاشی نے ابرہہ کے منصب کو برقرار رکھا اور بدلے میں ابرہہ نے ایک خوبصورت گرجا گھر تعمیر کرایا جس کی اس زمانے میں کوئی مثال نہ تھی۔
جزیرہ عرب کے قبائل میں تشویش پیدا ہوئی کہ ابرہہ کعبے کی مرکزیت کو ختم کر دے گا جو اس وقت درست ثابت ہوئی جب ابرہہ نے اپنے مبلغین سرزمینِ حجاز میں بھیجے۔ عرب چونکہ کعبے کو حضرت ابراہیم کی نشانی کے طور پر دیکھتے تھے، ان کے ایک گروہ نے گرجا گھر کو آگ لگا دی یا اسے گندہ کیا۔
ابرہہ کو یہ جان کر بہت غصہ آیا۔ وہ ساٹھ ہزار افراد اور تیرہ ہاتھیوں کا ایک بڑا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے اپنے لوگوں کو مکہ والوں کے اونٹ اور اموال لوٹنے کا حکم صادر کیا تو کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب کے بھی دو سو اونٹ لے گئے جنہیں رئیسِ مکہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ابرہہ نے اپنا ایک قاصد رئیسِ مکہ کے پاس بھیجا کہ میرا ارادہ خون بہانے کا نہیں ہے، میں تو بس مکہ کو ویران کرنے آیا ہوں۔ حضرت عبدالمطلب اس قاصد کے ساتھ ابرہہ کے دربار میں گئے تو بلند قامت، حسین چہرے اور حد سے زیادہ رعب نے ابرہہ کو اپنی جگہ چھوڑنے اور ان کا استقبال کرنے پر مجبور کیا۔
رئیسِ مکہ اب ابرہہ کے پہلو میں زمین پر بیٹھے تھے، کہ تخت پر وہ بٹھا نہیں سکتا تھا۔ ابرہہ نے مترجم سے کہا کہ ان کی حاجت کی بابت دریافت کریں۔ رئیسِ مکہ گویا ہوئے کہ تیرے لشکری میرے دو سو اونٹ لائے ہیں، وہ واپس کیجیے۔ ابرہہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا کہ کیسا شخص ہے جسے اپنے اونٹوں کی فکر تو ہے لیکن کعبہ کی نہیں۔ وہاں پر حضرت عبدالمطلب نے جو جواب دیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ “میں اونٹوں کا مالک ہوں، اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے، وہ اس کی حفاظت کرے گا”۔
رئیسِ مکہ واپس آئے اور اپنے لوگوں کو پہاڑوں کے غاروں میں رہنے کی تاکید کی، خود خانہ کعبہ کے پاس آئے اور دعا کی جس کے ابتدائی کلمات یہ تھے کہ خدایا! ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے گھر کی حفاظت فرما۔
دوسری طرف ابرہہ اپنے ہاتھی پر سوار ہوا اور اپنے لشکر کو بھی ساتھ لیا۔ ہاتھی کا رخ کعبہ کی طرف کرتے تو رک جاتا، یمن کی طرف موڑتے تو چلنے لگتا۔ ابرہہ ششدر رہ گیا۔ جب یہ لشکر مزدلفہ اور مِنٰی کے درمیان وادی مُحَسِّر پہنچا تو سمندر کی طرف سے چھوٹے پرندوں کے غول کے غول اور جھنڈ کے جھنڈ آن پہنچے جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں، جو چنے کے دانے کے برابر تھیں۔ یہ کنکریاں جس کو لگتیں، اس کے بدن میں سوراخ کر کے دوسری طرف نکلتیں، یوں وہ ہلاک ہو جاتا۔ ابرہہ خود بھی زخمی ہوا، اسے صنعا کی طرف لے گئے اور وہاں وہ ہلاک ہو گیا۔
اسی سال عرب میں چیچک کی بیماری پھیلی تھی۔ اور پیغمبر اکرم ﷺ کی ولادت بھی اسی سال ہوئی تھی۔ اس سال کو عام الفیل کہا جاتا ہے جو عربوں کی تاریخ کا مبدا قرار پایا۔ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان دونوں واقعات کے درمیان ایک رابطہ موجود تھا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم ﷺ کو یہ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہاتھی والوں کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا؟‘ جو نہ تو اس وقت موجود تھے اور نہ ہی انہوں نے دیکھا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان دونوں واقعات میں کوئی ربط ضرور تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













