مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا اور حکومت کی تبدیلی سے متعلق تمام خبریں محض افواہیں ہیں، اس وقت شہباز شریف سے زیادہ مؤثر، بہتر وزیراعظم کسی پارٹی کے پاس موجود نہیں ہے۔
اتوار کو نجی ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں طارق فضل چوہدری نے نئے صوبوں کی تشکیل، سسٹم کی کارکردگی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اسپتال میں علاج کے معاملے پر حکومتی نقطہ نظر کی تفصیلات بیان کیں۔
حکومت کی تبدیلی کی افواہیں اور نظام کا استحکام
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومت کے خاتمے کی خبروں کو سراسر افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اس وقت ملک کے سب سے مؤثر وزیراعظم ہیں اور ان کا نعم البدل کسی پارٹی میں موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وی ایکسکلوسیو، اگر پی ٹی آئی اتفاق رائے کرلے تو مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر محسن نقوی کے ‘سسٹم ناکام ہونے’ سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے تھی، نظام میں چیلنجز ضرور موجود ہیں جنہیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مل کر حل کرنا ہوگا، لیکن پورے سسٹم کو ناکام کہنا غیر متوازن بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدارتی نظام پر بات ہو سکتی ہے لیکن موجودہ معروضی حالات اس کی بھی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ملک کو دہشتگردی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
نئے صوبوں کی تشکیل، ریفرنڈم اور ’18’ ویں ترمیم
نئے صوبوں کی بحث پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی بات 50 سال پرانی ہے اور لوکل گورنمنٹس ان کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے تقسیم ہوں گے تو چاروں صوبے ہوں گے، کوئی ایک صوبہ اکیلا تقسیم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ماڈل کو بھی دیکھ سکتے ہیں جہاں پنجاب کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور اگر باقی صوبے راضی ہوں تو سندھ اکیلا اس کی مزاحمت نہیں کر سکے گا۔
طارق فضل چوہدری نے وضاحت کی کہ 18 ویں ترمیم کے بعد این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبے پہلے سے کہیں زیادہ بااختیار ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اب یہ عمل پہلے سے زیادہ مشکل ہے، تاہم عوام کی رائے جاننے کے لیے ‘ریفرنڈم’ کا آپشن بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد پہلے سے زیادہ سرسبز، 26 ہزار پیپر ملبری کے بدلے 46 ہزار درخت لگائے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
انہوں نے بتایا کہ صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ نے ن لیگ یا حکومت کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ، ن لیگ کے اندر بھی فی الحال اس حوالے سے کوئی رسمی مشاورت نہیں ہوئی۔
عمران خان کا علاج اور قانونی تقاضے
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہمارے ان سے سیاسی اختلافات ہیں لیکن ہم نے انہیں کبھی دشمن نہیں سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ قانون تمام قیدیوں کے لیے برابر ہونا چاہیے، اگر ایک قیدی کو ذاتی خرچ پر پرائیویٹ اسپتال جانے کی اجازت دی گئی تو کل کو ہر قیدی یہی مطالبہ کرے گا۔
میاں نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں باہر علاج کی اجازت اس لیے دی تھی کیونکہ یہاں ان کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قیدی کے اسپتال میں داخلے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ ہی کر سکتا ہے کوئی عدالت نہیں، اور حکومت نے عدالت میں درخواست کے ذریعے وضاحت پیش کر دی ہے اس لیے توہینِ عدالت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
انتظامی اصلاحات اور سیاسی کشمکش
واضح رہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل اور طاقت کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک طرف جہاں معاشی و انتظامی اصلاحات کے لیے مختلف ماڈلز پر بحث جاری ہے، وہیں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے طبی معائنے اور سہولیات کا معاملہ بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید سیاسی و قانونی نزاع کا باعث بنا ہوا ہے۔














