جعلی شناختی دستاویزات بنانے والوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، کتنے افسران گرفتار ہوئے؟

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی: قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگا کر نادرا کے 2 افسران سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے ایک علاقے سے غیر قانونی طور پر مقیم چند افغان باشندوں کو حراست میں لیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے پاکستانی شناختی دستاویزات برآمد ہوئیں۔

ابتدائی تفتیش میں زیر حراست افغان باشندوں نے خود کو پاکستانی شہری ظاہر کیا، تاہم سیکیورٹی اداروں نے ان کے فراہم کردہ خاندانی کوائف اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ان کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا۔

ذرائع کے مطابق مزید پوچھ گچھ میں افغان باشندوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ شناختی دستاویزات ایک پرائیویٹ ایجنٹ کے ذریعے حاصل کی تھیں، جس کے بعد ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ تکنیکی شواہد، ریکارڈ کی تصدیق اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے نیٹ ورک سے وابستہ 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایف آئی اے کراچی زون کے پبلک ریلیشن سیل کی جانب سے جاری پریس ریلیز  کے مطابق گرفتار ملزمان میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انعام الحق، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد، نادرا کے چوکیدار جنید احمد اور پرائیویٹ ایجنٹ محمد عمر شاہ شامل ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر سہولت کاری کر رہے تھے۔ ابتدائی شواہد سے اس نیٹ ورک کے دہشتگرد عناصر سے ممکنہ روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

کارروائی کے دوران اہم سرکاری ریکارڈ اور دیگر شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں اور اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام سہولت کاروں اور مرکزی کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب نادرا ذرائع کے مطابق ادارے نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے یا اس جرم میں ملوث ثابت ہونے والے ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قومی سلامتی، دہشتگردی کی معاونت، جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

فرانس سے اٹھنے والی احتجاجی لہر یورپ بھر میں پھیل گئی، کیا حکمران جماعتوں کا مستقبل خطرے میں ہے؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں