خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پالیسی متعارف کرانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت دورانِ ڈیوٹی شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کو موجودہ شہدا پیکج کے علاوہ انشورنس کمپنی کی جانب سے اضافی معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ پولیس افسران، اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت علاج کی سہولت بھی حاصل ہو گی۔

انشورنس پالیسی کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور انسپکٹر جنرل پولیس کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔ گورنر کی ہدایت پر انشورنس کمپنی کے ساتھ بھی اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد مجوزہ پلان آئی جی پولیس کے ویلفیئر ونگ کو پیش کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے 10بکتر بند گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے کردیں

متعلقہ حکام کے مطابق پلان کو حتمی شکل دینے کے بعد گورنر اور آئی جی پولیس کی مشاورت سے اس کی منظوری دی جائے گی۔

انشورنس پلان میں کون سی سہولیات شامل ہوں گی؟

انشورنس کمپنی اور پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خصوصی انشورنس پلان حتمی مراحل میں ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشتگردی کے خلاف لڑنے والی پولیس فورس کے علاج معالجے، شہدا کے لواحقین کے مالی تحفظ اور اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت پولیس افسران اور اہلکاروں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ ان کے اہل خانہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ پولیس حکام نے انشورنس کمپنی پر واضح کیا ہے کہ علاج کی سہولت عہدے کی تفریق کے بغیر تمام اہلکاروں اور افسران کو یکساں طور پر دستیاب ہونی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں بہتر اسپتالوں میں علاج، نجی کمرے اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم ان سہولیات کی حتمی تفصیلات اور انشورنس کوریج کا تعین پالیسی کی منظوری کے بعد ہو گا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پہلے ہی شہدا پیکج موجود ہے، تاہم نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد اس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہدا کے لیے پلاٹ کے بجائے نقد معاوضہ دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

مجوزہ انشورنس پالیسی کے تحت شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کو اس کے علاوہ الگ سے معاوضہ دینے کی تجویز ہے۔

صحت کارڈ کے باوجود پولیس کے لیے الگ انشورنس کیوں؟

خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کے ذریعے شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، تاہم پولیس حکام کے مطابق اس کے باوجود پولیس فورس کے لیے الگ انشورنس پالیسی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کو دورانِ ڈیوٹی دہشتگردی کے واقعات، فائرنگ اور گولیاں لگنے سے زخمی ہونے جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے، جبکہ صحت کارڈ کے تحت ہر نوعیت کے علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے پولیس اہلکاروں کے لیے ایک ایسا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس کے ذریعے زخمی اہلکاروں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے موجودہ نظام میں زخمی اہلکاروں کو بعض اوقات اپنے خرچ پر علاج کروانا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ اخراجات کے بل متعلقہ حکام کو جمع کراتے ہیں۔ بلوں کی منظوری اور ادائیگی میں طویل تاخیر کے باعث اہلکاروں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض صورتوں میں بروقت علاج بھی متاثر ہوتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مجوزہ انشورنس پالیسی کا مقصد ان مسائل کو کم کرنا اور اہلکاروں کو علاج کے لیے فوری مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

’ایک لاکھ 24 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار مستفید ہوں گے‘

پولیس ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس فورس کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کی تعداد اور متعلقہ کوائف مرتب کرنے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ: پالیسی بورڈ سے افسران کے تبادلوں تک اختیارات کی نئی تقسیم کیا ہے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے کے بعد انشورنس پلان کے مالی حجم، کوریج اور دیگر شرائط کو حتمی شکل دی جائے گی۔

انشورنس کمپنی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سندھ پولیس انشورنس کی سہولت حاصل کر چکی ہے، جبکہ اب خیبر پختونخوا پولیس بھی انشورنس کی سہولت حاصل کررہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں