وفاقی دارالحکومت کے علاقے پھلگراں میں پرنس روڈ پر تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار مون سون کی پہلی ہی بارش کے بعد زمین بوس ہو گئی، جس کے بعد منصوبے کے تعمیراتی معیار اور مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا پر دیوار کے گرنے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں حفاظتی پشتے کو نیچے سے ٹوٹتے اور منہدم ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش
اطلاعات کے مطابق مذکورہ حفاظتی دیوار چند ماہ قبل سڑک اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کی گئی تھی، تاہم گزشتہ روز ہونے والی ہلکی بارش نے اس تعمیراتی کام کی قلعی کھول دی۔
بارش کے بعد دیوار اچانک گر گئی، جس پر شہریوں نے منصوبے میں مبینہ ناقص تعمیراتی مٹیریل اور معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
🚨🚨 اسلام آباد کے علاقے پھلگراں کی پرنس روڈ پر 28 کروڑ روپے مالیت سے تعمیر شدہ حفاظتی دیوار کی گزشتہ روز کی ہلکی بارش کے بعد کی صورتحال۔۔۔ یاد رہے حفاظتی دیوار چند ماہ قبل لوکل گورنمنٹ کی جانب سے بنائی گئی تھی۔۔۔
غفلت کسی کی بھی ہو۔۔۔ جلد یا بدیر خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا… pic.twitter.com/ipzTB0Uu8V
— Azaz Syed (@AzazSyed) July 22, 2026
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اتنی بڑی لاگت سے تعمیر ہونے والی حفاظتی دیوار پہلی ہی بارش کا مقابلہ نہ کر سکی تو اس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور تعمیراتی نگرانی پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
صحافی اعزاز سید نے بھی اس معاملے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ پھلگراں کی پرنس روڈ پر تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار گزشتہ روز کی ہلکی بارش کے بعد اس حالت میں پہنچ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دیوار چند ماہ قبل تعمیر کی گئی تھی اور غفلت کسی کی بھی ہو، اس کے نتائج بالآخر بے گناہ شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد نہ بارش سے محفوظ نہ ڈکیتوں سے، اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی؟
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے منصوبے پر 28 کروڑ روپے لاگت آنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حفاظتی دیوار کے منصوبے کی مجموعی لاگت ڈھائی کروڑ روپے تھی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ناقص تعمیراتی معیار سامنے آنے پر متعلقہ سائٹ انجینئر کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ دار ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے تحت حفاظتی دیوار کے باقی ماندہ حصے کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے تاکہ پوری دیوار ازسرِنو تعمیر کی جا سکے۔
جبکہ نئی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات متعلقہ ٹھیکیدار سے وصول کیے جائیں گے۔














