امریکی سینیٹر کا اے آئی کمپنیوں پر نگرانی محدود کرنے کی کوشش کا الزام

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے میں ایسی تبدیلیوں کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں جن سے اے آئی نظاموں کی شفافیت اور حکومتی نگرانی محدود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت ماڈلز سے متعلق معلومات تک ریگولیٹرز کی رسائی مزید مضبوط بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں لوگ مصنوعی ذہانت ’ اے آئی‘ سے خوفزدہ کیوں؟

سینیٹر الزبتھ وارن نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی ان کوششوں کی مخالفت کریں جن کے ذریعے اے آئی ماڈلز کے الگورتھمز اور بنیادی معلومات کو حکومتی نگرانی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وارن کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے کے تحت ایسے قوانین چاہتی ہیں جن سے حکام کو مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانچ کے لیے محدود معلومات دستیاب ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ممکنہ نقصانات سے شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومتوں کو زیادہ اختیارات اور معلومات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ایسی شقیں ختم ہونی چاہئیں جو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے مصنوعی ذہانت الگورتھمز اور سورس کوڈ کو نگرانی سے بچانے کا موقع دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا نیا ماڈل ‘کیمی کے 3‘ لانچنگ کے لیے تیار، خاص بات کیا ہے؟

رائٹرز کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی قانون سازوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ممکنہ نقصانات کے باعث مزید سخت قوانین بنانے کی آوازیں تیز ہو رہی ہیں۔

صنعتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سورس کوڈ، الگورتھمز اور تربیتی معلومات ظاہر کرنے کی لازمی شرط عالمی سطح پر اے آئی خدمات کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان تنظیموں نے امریکی تجارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی جانب سے ایسی شرائط کی مخالفت کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا