چین کی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے ایک نیا اور انتہائی طاقتور اے آئی ماڈل ’کیمی کے 3‘ متعارف کرا دیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکا کی معروف کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے جدید ترین ماڈلز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
کمپنی کے مطابق کیمی کے تھری میں 2.8 ٹریلین پیرامیٹرز موجود ہیں جو کسی بھی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی وسعت، پیچیدگی اور معلومات پر عمل کرنے کی صلاحیت کا اہم پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔
27 جولائی کو اوپن سورس ریلیز
مون شاٹ اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ 27 جولائی کو کیمی کے 3 کو اوپن سورس ماڈل کے طور پر جاری کیا جائے گا جس کے بعد دنیا بھر کے ڈویلپرز اسے مفت ڈاؤن لوڈ، اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل اور مختلف منصوبوں میں استعمال کر سکیں گے۔
اوپن سورس سے مراد ایسا مصنوعی ذہانت یا اے آئی ماڈل یا سافٹ ویئر ہوتا ہے جس کا بنیادی کوڈ عوامی طور پر دستیاب ہو۔ اس کی بدولت دنیا بھر کے ڈویلپرز اور محققین اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال، ترمیم اور مزید بہتر بنا سکتے ہیں جبکہ کلوزڈ سورس ماڈلز میں یہ سہولت موجود نہیں ہوتی اور ان پر صرف بنانے والی کمپنی کا کنٹرول ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے اختلافی مضمون لکھ کر شائع بھی کردیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی
اس وقت دنیا کے زیادہ تر معروف مصنوعی ذہانت یا اے آئی ماڈلز کلوزڈ سورس ہیں جن میں چیٹ جی پی ٹی، گروک، کلاڈ اور جیمنائی شامل ہیں۔ ان ماڈلز کا بنیادی سورس کوڈ اور ٹیکنالوجی عوام کے لیے دستیاب نہیں ہوتی اس لیے صارف انہیں صرف متعلقہ کمپنیوں کے پلیٹ فارمز یا اے پی آئی کے ذریعے استعمال کر سکتے ہیں جبکہ ان میں اپنی ضرورت کے مطابق ترمیم یا انہیں ازسرِ نو تیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
دوسری جانب ڈیپ سیک، لاما، مسٹرال اور کیمی کے اوپن سورس (زیادہ درست اصطلاح اوپن ویٹ) ماڈلز ڈویلپرز کے لیے نسبتاً زیادہ کھلے ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے محققین اور سافٹ ویئر ڈویلپرز ماڈلز کو اپنی ضروریات کے مطابق استعمال، اپنی مقامی مشینوں پر چلانے، مخصوص کاموں کے لیے بہتر بنانے (فائن ٹیوننگ) اور مختلف ایپلی کیشنز میں ضم کرنے کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، جس کے باعث تحقیق، جدت اور نئی اے آئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔
جس طرح چیٹ جی پی ٹٰی کے پیچھے جی پی ٹی ماڈل کام کرتا ہے اسی طرح Kimi Chat کے پیچھے Kimi K3 ماڈل کام کرے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کیمی کے 3 کو اوپن ویٹ انداز میں جاری کیا جا رہا ہے اس لیے دنیا بھر کے ڈویلپرز بھی اسے اپنی ایپس اور چیٹ بوٹس میں استعمال کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ
کمپنی کا کہنا ہے کہ ماڈل کی مکمل صلاحیتیں، جن میں کوڈنگ، پیچیدہ مسائل پر غور و فکر، انجینیئرنگ اور علمی نوعیت کے کام شامل ہیں اوپن سورس ریلیز کے بعد واضح ہوں گی۔
چین اور امریکا کے درمیان اے آئی مقابلہ مزید تیز
ماہرین کے مطابق کیمی کے تھری کی آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ موجود تکنیکی فرق تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ ماڈل تین ٹریلین پیرامیٹرز کی کلاس کے قریب دنیا کا پہلا اوپن سورس اے آئی ماڈل ہوگا جسے بیرونی ڈویلپرز آزادانہ طور پر استعمال اور اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں گے۔
امریکی پابندیوں کے باوجود چینی پیشرفت
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی حکومت نے سائبر سکیورٹی خدشات کے باعث اینتھروپک کو اپنے جدید فیبل اور مِتھوس ماڈلز عارضی طور پر واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔
بعد ازاں اگرچہ یہ پابندیاں ہٹا دی گئیں، تاہم اس واقعے نے واضح کیا کہ امریکا اب جدید اے آئی ماڈلز کو قومی سلامتی کے اہم اثاثے تصور کرتا ہے اور ان پر سخت برآمدی پابندیاں نافذ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمی کے 3 کی تیز رفتار پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چینی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی تحقیق اور ترقی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
علی بابا اور 10 سینٹ کی حمایت
مون شاٹ اے آئی کو چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں علی بابا اور 10 سینٹ کی بھرپور مالی حمایت حاصل ہے جس کے باعث یہ کمپنی چین کے جنریٹو اے آئی شعبے میں تیزی سے نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ کیمی کے تھری اب تک ان کا سب سے طاقتور اور جدید فلیگ شپ ماڈل ہے۔
اوپن سورس ہونے کا اہم فائدہ
امریکی کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے برعکس، جن کے جدید ماڈلز محدود رسائی رکھتے ہیں، کیمی کے 3 کو اوپن سورس بنایا جا رہا ہے جس سے دنیا بھر کے ڈویلپرز اس میں تبدیلیاں کرکے پیچیدہ سافٹ ویئر، انجینیئرنگ اور جدید اے آئی ایپلی کیشنز تیار کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق اس ماڈل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ کم سے کم انسانی نگرانی کے ساتھ بھی طویل اور پیچیدہ کام انجام دے سکے۔
آزاد اداروں کی جانچ میں مضبوط کارکردگی
آزاد تحقیقی اداروں آرٹیفیشل اینالیسز اور ارینا ڈاٹ اے آئی کی ابتدائی جانچ کے مطابق کیمی کے تھری نے کئی شعبوں میں امریکی ماڈلز جی پی ٹی اور کلاڈ کے برابر کارکردگی دکھائی۔
مزید پڑھیں: اے آئی جنگ: جیمنی کی مقبولیت میں اضافہ، چیٹ جی پی ٹی پیچھے، وجہ کیا ہے؟
ان ٹیسٹوں میں ویب انٹرفیس انجینیئرنگ کے شعبے میں کیمی کے 3 نے اینتھروپک کے فیبل ماڈل سے بھی بہتر نتائج حاصل کیے۔
سلیکون ویلی کے لیے ممکنہ چیلنج
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اتنے بڑے ماڈل کو مقامی کمپیوٹر پر چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹنگ وسائل درکار ہوں گے، تاہم اس کا اوپن سورس ہونا عالمی اے آئی انڈسٹری خصوصاً سلیکون ویلی کے تجارتی ماڈلز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
شیئر مارکیٹ پر بھی اثر
مون شاٹ اے آئی کے اس اعلان کے بعد ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں اس کی حریف چینی کمپنیوں ژیپو اور منی میکس کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ژیپو کے شیئرز تقریباً 27 فیصد جبکہ منی میکس کے شیئرز 16 فیصد تک گر گئے۔
واضح رہے کہ کیمی کے بارے میں یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دیگر جدید اے آئی چیٹ بوٹس کی طرح اردو سمیت متعدد زبانوں میں صارفین سے گفتگو، سوالات کے جواب، ترجمہ، خلاصہ نویسی، مضمون نویسی اور دیگر تحریری کام انجام دے سکے گا۔ تاہم مختلف زبانوں میں اس کی کارکردگی کا حقیقی اندازہ ماڈل کی مکمل ریلیز اور عملی استعمال کے بعد ہی ہو سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر کیمی کے اردو زبان سے متعلق دعوے بھی درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان سمیت اردو بولنے والے لاکھوں صارفین کے لیے ایک اہم متبادل بن سکتا ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ، اساتذہ، صحافی، پروگرامرز اور عام صارفین اپنی روزمرہ تحقیق، تحریر، کوڈنگ اور دیگر کاموں میں مصنوعی ذہانت کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
مزید پڑھیے: ’ٹیکن فار گرانٹڈ‘ والا معاملہ اے آئی میں بھی؟ زیادہ دوستانہ چیٹ بوٹس کم قابل بھروسا، نئی تحقیق
کیمی کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ صرف پروگرامنگ یا تحقیقی کاموں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، گروک اور جیمنائی کی طرح عام صارفین کے ساتھ روزمرہ گفتگو (چیٹنگ) بھی کر سکے گا۔ صارفین اس سے مختلف موضوعات پر سوالات پوچھ سکیں گے، مشورے لے سکیں گے، مضامین اور ای میلز لکھوا سکیں گے، ترجمہ کرا سکیں گے، ریاضی کے سوال حل کروا سکیں گے اور روزمرہ زندگی کے کئی کاموں میں اس کی مدد حاصل کر سکیں گے۔














