مصنوعی ذہانت پرپابندی سے متعلق عالمی بحث، بڑی ٹیک کمپنیوں کا مؤقف جاری

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل سے متعلق جاری عالمی بحث کے دوران اینویڈیا، مائیکروسافٹ، میٹا، آئی بی ایم اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن سورس اے آئی ماڈلز پر قبل از وقت سخت پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔

اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ سمیت تقریباً 2 درجن کمپنیوں اور تنظیموں نے ایک مشترکہ خط جاری کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اوپن ماڈلز پر وسیع نوعیت کی پابندیاں نافذ کرنے کے بجائے متوازن اور ہدفی قانونی و تجارتی فریم ورک اختیار کیا جانا چاہیے۔

اوپن سورس اور کلوزڈ ماڈلز پر اختلاف کیوں؟

حالیہ عرصے میں اوپن سورس اور کلوزڈ سورس اے آئی ماڈلز کے درمیان فرق اور ان کے مستقبل پر بحث میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹس کے بچوں سے غیر مناسب رابطے، 7 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع

اوپن سورس ماڈلز ایسے ہوتے ہیں جن کے بنیادی وزن  یا کوڈ تک محققین اور ڈویلپرز کو مختلف درجوں میں رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ کلوزڈ سورس ماڈلز پر مکمل کنٹرول متعلقہ کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور اینتھروپک، کے پاس رہتا ہے۔

مشترکہ خط میں کہا گیا کہ صرف کلوزڈ ماڈلز پر انحصار کو محفوظ حکمت عملی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ایسے نظام بھی ہیک ہو سکتے ہیں، غلط استعمال کا شکار بن سکتے ہیں یا ان میں ایسی خامیاں موجود ہو سکتی ہیں جن کی بیرونی ماہرین کو بروقت نشاندہی کا موقع نہیں ملتا۔

اس کے برعکس، اوپن ویٹ ماڈلز میں عالمی تحقیقی برادری خامیوں کی نشاندہی، سکیورٹی بہتری اور حفاظتی اقدامات کی تیاری میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

لاگت اور کنٹرول بھی اہم مسئلہ

رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کلوزڈ سورس اے آئی ماڈلز کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مائیکروسافٹ اور دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی پالانٹیر کے سربراہان اس بات کی حمایت کر چکے ہیں کہ ایسے اوپن سورس ماڈلز، جنہیں صارفین اپنے ڈیٹا سینٹرز میں چلا سکیں، اے آئی انفراسٹرکچر کی لاگت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلوزڈ سورس ماڈلز میں شامل حفاظتی پابندیاں بعض اوقات جائز تحقیقی اور سائبر سکیورٹی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی اور چینی ماڈلز پر بھی بحث

رپورٹ کے مطابق اے آئی پلیٹ فارم ‘ہگنگ فیس’ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سائبر حملے کے بعد دفاعی مقاصد کے لیے اسے ایک چینی اوپن سورس ماڈل استعمال کرنا پڑا، کیونکہ بعض کلوزڈ سورس ماڈلز میں سائبر سکیورٹی سے متعلق استعمال پر پابندیاں موجود تھیں۔

ادھر حالیہ ہفتوں میں چینی تحقیقی اداروں کی جانب سے بھی نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے بعد ان ماڈلز کی نگردوسری جانب امریکا میں بعض قانون ساز اے آئی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سخت ضابطوں کی حمایتانی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

امریکی قانون سازوں کی تشویش

دوسری جانب امریکا میں بعض قانون ساز اے آئی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سخت ضابطوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض اراکینِ کانگریس نے ایسی قانون سازی کی تجویز بھی پیش کی ہے جس کے تحت اے آئی ماڈلز میں ‘کِل سوئچ’ جیسا حفاظتی نظام شامل کرنا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طور پر غیر فعال کیا جا سکے۔

اسی دوران امریکی انتظامیہ چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز تیار کرنے والے بعض اداروں پر مبینہ طور پر امریکی کلوزڈ سورس ٹیکنالوجی کے غیر قانونی استعمال کے الزامات کے تناظر میں پابندیوں پر بھی غور کر رہی ہے۔

ٹیک کمپنیوں کا جواب

مشترکہ خط میں کمپنیوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکنالوجی کی چوری اور دانشورانہ املاک کے تحفظ جیسے خدشات حقیقی ہیں، تاہم ان کے مطابق ان مسائل کا حل وسیع پابندیاں نہیں بلکہ مؤثر قانونی اور تجارتی اقدامات ہیں۔

مزید پڑھیں:ایپل کا اوپن اے آئی پر بڑا مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی اور آئی فون استعمال کرنے والوں پر کیا اثر پڑے گا؟

خط میں کہا گیا کہ اگر اوپن سورس اے آئی پر غیر ضروری قدغنیں لگائی گئیں تو اس سے عالمی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے اور نئی ٹیکنالوجی کی ترقی دوسرے ممالک منتقل ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں اس بحث کو جنم دیا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کو کس حد تک کھلا رکھا جائے اور ان پر کس نوعیت کی نگرانی ہونی چاہیے۔

ایک طرف اوپن سورس ماڈلز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ شفافیت، تحقیق اور اجتماعی نگرانی کے ذریعے ٹیکنالوجی کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے ماڈلز تک وسیع رسائی انہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہے۔

اسی اختلافِ رائے کے باعث دنیا بھر میں اوپن سورس اور کلوزڈ سورس اے آئی ماڈلز کے حوالے سے قانون سازی، قومی سلامتی، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی مسابقت پر بحث مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار