امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اوپن اے آئی کے خلاف تجارتی راز چوری کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا، تاہم اس قانونی کارروائی سے فی الحال آئی فون، آئی پیڈ اور میک صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی سہولت متاثر نہیں ہوگی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اوپن اے آئی، اس کے چیف ہارڈویئر آفیسر تانگ ٹین، سابق ایپل انجینئر چانگ لیو اور io Products نامی کمپنی نے ایپل کی خفیہ معلومات، غیر متعارف شدہ مصنوعات، انجینئرنگ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ طریقہ کار اور دیگر تجارتی راز غیر قانونی طور پر حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آئی فون 18 پرو ایپل کا مہنگا ترین فون ہوگا؟ لانچ اور قیمت سے متعلق بڑی خبر
ایپل کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی نے سابق ایپل ملازمین، بھرتی کے عمل اور سپلائرز کے ساتھ تعلقات کے ذریعے کمپنی کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی۔ تاہم اوپن اے آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کو کسی دوسری کمپنی کے تجارتی رازوں میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس کی توجہ جدید اور مفید ٹیکنالوجی کی تیاری پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمہ چیٹ جی پی ٹی کو ایپل انٹیلیجنس میں شامل کرنے کے معاہدے سے متعلق نہیں، اسی لیے سری (Siri)، رائٹنگ ٹولز، امیج پلے گراؤنڈ اور ویژول انٹیلیجنس کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی کی موجودہ سہولت بدستور دستیاب رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل اور گوگل میں 1 ارب ڈالر کا معاہدہ، کیا ’سری‘ گوگل کے جیمنی اے آئی سے چلے گا؟
ایپل کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی مستقبل میں ایسی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیوائسز تیار کر رہا ہے جو آئی فون، ایپل واچ اور دیگر ایپل مصنوعات کا مقابلہ کر سکتی ہیں، جبکہ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اس منصوبے میں ایپل کی خفیہ معلومات استعمال کی جا رہی ہیں۔
عدالت میں دائر درخواست میں ایپل نے مالی ہرجانے کے علاوہ اوپن اے آئی کو اپنی خفیہ معلومات استعمال کرنے سے روکنے، کمپنی کی ملکیت واپس دلانے اور متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ، تجارتی راز چرانے کا الزام
دوسری جانب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایپل سے کوئی خوف نہیں، تاہم وہ اس کمپنی کا بے حد احترام کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فوری اثر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے ایپل صارفین پر نہیں پڑے گا البتہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ڈیوائسز کی تیاری اور دونوں کمپنیوں کے درمیان تعاون پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














