وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران بھارت سے منسلک ایک ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے، جو پاکستان میں غلط معلومات، ریاست مخالف مواد اور آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے متعلق سوشل میڈیا مہم کو سرحد پار سے مالی معاونت فراہم کر رہا تھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ سیکیورٹی اداروں نے حال ہی میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا، جس کی سرگرمیوں کے روابط بھارت سے ملے ہیں۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کا گٹھ جوڑ!
وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے بھارت کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کے ناقابلِ تردید ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کر دیے!
کن اکاؤنٹس میں کتنی رقم منتقل ہوئی؟ ہوش ربا تفصیلات! pic.twitter.com/D3fOgttPWw— WE News (@WENewsPk) July 26, 2026
سوشل میڈیا مہم کے لیے بھارت سے ادائیگیاں ہونے کا انکشاف
وفاقی وزیر نے کہاکہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا مواد کو فروغ دینے اور اس کی رسائی بڑھانے کے لیے ادائیگیاں بھارتی پیمنٹ گیٹ ویز کے ذریعے کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ غلط معلومات پھیلانے کے لیے ایک مکمل نیٹ ورک بوٹ فارمز کے ذریعے کام کر رہا تھا، جس کا مقصد پاکستان، ریاستی اداروں، حکومت، مسلح افواج اور آرمی چیف کے خلاف ریاست مخالف مواد پھیلانا تھا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق مہم کا سراغ
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ تحقیقات میں سامنے آنے والے بیشتر پروموٹ کیے گئے مواد کا تعلق آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق سوشل میڈیا مہم سے تھا۔
انہوں نے کہا، ’ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ یہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیر اور پاکستان کے تعلقات کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ یہ کشمیری عوام کے حقوق کی تحریک نہیں بلکہ ایک وسیع تر سازش کا حصہ تھی۔‘
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ گروہ واقعی عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس نے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے انتخابات کیوں نہیں لڑے۔
احتجاج کے نام پر تشدد اور قانون شکنی کا الزام
عطااللہ تارڑ نے آزاد کشمیر میں ہونے والے سابقہ احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تشدد کو ہوا دی، امن و امان کی صورتحال خراب کی، سڑکیں بند کیں، مسلح مظاہرے کیے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس اب ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جو اس مہم کے بھارت سے روابط ثابت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔‘
واٹس ایپ چیٹس اور مالی لین دین کے شواہد
وفاقی وزیر نے کہاکہ تکنیکی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حق میں چلنے والی سوشل میڈیا مہم کے لیے تمام ادائیگیاں بھارت سے کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ گرفتار ملزم اور بھارت میں موجود ایک آپریٹر کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ گفتگو بھی برآمد کر لی گئی ہے، جس میں ادائیگیوں، مخصوص ہدفی ناظرین (ٹارگٹ ویورشپ) اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق بات چیت موجود ہے۔
عطااللہ تارڑ کے مطابق مالی نگرانی کے نظام سے بچنے کے لیے ادائیگیاں چھوٹی چھوٹی اقساط میں منتقل کی جاتی تھیں۔
وی پی این کے باوجود بھارتی اکاؤنٹس کا سراغ
وفاقی وزیر نے بتایا کہ فرانزک ماہرین نے متعدد آن لائن اکاؤنٹس کا اصل ماخذ بھارت میں تلاش کر لیا، حالانکہ ان میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ وی پی این صارف کا مقام چھپا دیتا ہے، تاہم فرانزک تجزیے کے ذریعے ڈیوائس کی شناخت ممکن ہوتی ہے، اور اسی طریقے سے بھارت سے چلنے والے ان اکاؤنٹس کا سراغ لگایا گیا۔
فرقہ واریت اور ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی کوشش
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ حکومت اس کارروائی میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ ویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور مربوط گمراہ کن مہمات کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق یہ نیٹ ورک بوٹ سرگرمیوں کے ذریعے فرقہ واریت، ریاست مخالف بیانیے اور مسلح افواج کے خلاف مواد کو منظم انداز میں فروغ دے رہا تھا تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح کیا جا سکے، تاہم ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا، ’کوئی بھی پاکستان کو کمزور نہیں کر سکتا۔ حکومت، مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے اس قسم کی پروپیگنڈا اور مس انفارمیشن مہمات کو مسلسل بے نقاب کرتے رہیں گے۔‘
سوشل میڈیا پوسٹس، اے آئی تصاویر اور پرانی ویڈیوز استعمال ہونے کا دعویٰ
وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران تحقیقات سے منسلک بعض سوشل میڈیا پوسٹس بھی دکھائیں اور کہا کہ ان کا مقصد عوام کو تشدد پر اکسانا، غلط معلومات پھیلانا اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔
انہوں نے کہاکہ یہ تمام پوسٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق تھیں اور ان میں عوام کو بغاوت پر اکسانے کے ساتھ ساتھ فوج، ملک اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا۔
عطااللہ تارڑ کے مطابق اس مہم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر استعمال کی گئیں، جبکہ دیگر ممالک اور مختلف مقامات کی پرانی ویڈیوز اور فوٹیج کو جھوٹے طور پر کشمیر کے واقعات قرار دے کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ اس مہم کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا بھی تھا۔
حکومت کا مس انفارمیشن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ غلط معلومات کا تدارک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت جدید تکنیکی مہارت کے ساتھ ایسی سازشوں کو آئندہ بھی بے نقاب کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کا عالمی تشخص بہتر ہوا ہے اور حکومت ملک کی ساکھ کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔













