نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں 9 روز تک پھنسے شہری سنجے سہ نے تاریکی میں زندگی بچانے کی حیران کن داستان بیان کردی۔
رائٹرز کے مطابق 30 سالہ سنجے سہ کو سرنگ سے 10ویں روز زندہ نکالا گیا۔ وہ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے زیر انتظام اپر تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں مکینیکل فورمین کے طور پر کام کر رہے تھے۔ سیلاب کے بعد سرنگ میں ملبہ، ٹوٹے شیشے اور دیگر سامان بکھر گیا تھا، جس کے باعث انہیں کئی مرتبہ چوٹیں بھی آئیں۔
I survived by filtering oil-mixed water through my own clothes and drinking it," says Sanjay Sah, who was rescued after being trapped for 10 days in the tunnel of the Upper Trishuli 3A Hydroelectric Project due to the Rasuwa floods.
Interview / Video: Kamal Pariyar #BBCNepali… pic.twitter.com/mmCoSnBHER— ब्रो (@Boy2057Boy) September 11, 2026
سنجے سہ نے بتایا کہ سرنگ میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا اور انہوں نے پہاڑ سے رسنے والے پانی اور سیلابی پانی سے اپنی پیاس بجھائی۔ خوف اور مایوسی کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل ہرے کرشنا مہا منتر کا جاپ کرتے رہے۔ ان کے بقول منتر پڑھنے سے انہیں سکون ملا اور موت کا خوف کم ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ اندھیرے میں آنکھوں کو ملبے سے زخمی ہونے کے خدشے کے باعث وہ زیادہ تر آنکھیں بند رکھتے تھے۔ وقت کا اندازہ بھی ختم ہوگیا تھا اور انہیں لگتا تھا کہ وہ صرف 2 یا 3 روز سے سرنگ میں ہیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ 10 روز گزر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:گلیشیائی سیلاب سے تباہی کے بعد نیپال میں یوم سوگ، 5 ہزار کے قریب افراد تاحال لاپتا
سنجے کے مطابق انہوں نے سرنگ سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن مزید خطرے میں پھنسنے کے خدشے کے باعث محفوظ مقام پر واپس آکر وہیں رک گئے۔ امدادی کارروائی سے چند گھنٹے قبل انہیں کھدائی کرنے والی مشینوں اور سیڑھیوں کی آوازیں سنائی دیں، جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ امدادی ٹیم پہنچ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ پھنسنے والے کبیر مہرجن بھی زندہ بچ گئے، تاہم سیلاب میں کئی ایسے افراد بہہ گئے جنہیں انہوں نے سرنگ سے نکلنے کا مشورہ دیا تھا۔ سنجے نے کہا کہ ان لوگوں کا بچ نہ پانا ان کے لیے سب سے زیادہ افسوسناک بات ہے۔














