دبئی کی نئی ’دبئی انوائٹ اسکیم‘ کیا ہے؟ پاکستانی اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دبئی کے محکمہ اقتصادیات و سیاحت نے دنیا بھر سے مزید سیاحوں کو راغب کرنے اور مقامی رہائشیوں کو سیاحت کے فروغ میں شریک کرنے کے لیے ’دبئی انوائٹ مہم‘ کا آغاز کردیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت دبئی میں مقیم اماراتی شہری اور غیر ملکی رہائشی اپنے بیرون ملک رہنے والے دوستوں اور اہل خانہ کو دبئی آنے کی دعوت دے کر 3 ہزار درہم سے زیادہ مالیت کے خصوصی واؤچرز، رعایتوں اور دیگر مراعات کے اہل بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دبئی میں 2 سالہ رہائشی ویزا حاصل کرنے کا سنہری موقع، کون اور کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

اس اقدام کا مقصد دبئی کی سیاحت کو مزید فروغ دینا اور رہائشیوں کو اپنے پیاروں کو شہر کی عالمی معیار کی سہولیات اور تفریحی مقامات سے متعارف کرانے کی ترغیب دینا ہے۔

’دبئی انوائٹ اسکیم‘ کیا ہے؟

واضح رہے کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر دبئی کے سیاحتی شعبے کو مزید متحرک بنانا اور رہائشیوں کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم افراد کو دبئی کی سیر کی ترغیب دینا ہے۔

اس کے تحت دبئی میں مقیم کوئی بھی اہل رہائشی وزٹ دبئی کے آن لائن پورٹل پر اپنے دوست یا رشتہ دار کی بنیادی معلومات درج کرکے اسے پروگرام کے لیے نامزد کر سکتا ہے۔ جب مدعو کیا گیا مہمان مقررہ مدت کے دوران دبئی کا سفر مکمل کر لیتا ہے تو دعوت دینے والا رہائشی حکومتی اور پارٹنر اداروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے خصوصی ریوارڈز اور رعایتوں کا اہل بن جاتا ہے۔

دبئی کے رہائشیوں کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟

اس پروگرام کے تحت اہل رہائشیوں کو مجموعی طور پر 3 ہزار درہم سے زیادہ مالیت کے فوائد فراہم کیے جائیں گے۔

ان مراعات میں معروف ہوٹلوں میں خصوصی رعایتیں، لگژری ہوٹلوں میں قیام کی آفرز، ممتاز ریستورانوں میں ڈائننگ ڈسکاؤنٹس، برج خلیفہ، ایٹلانٹس دی پام اور دیگر مشہور تفریحی مقامات کے ٹکٹ یا خصوصی آفرز شامل ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ شاپنگ، فیملی انٹرٹینمنٹ، لائف اسٹائل اور دیگر پارٹنر برانڈز کی جانب سے بھی خصوصی رعایتیں اور واؤچرز فراہم کیے جائیں گے، تاہم مختلف ریوارڈز کی نوعیت اور دستیابی متعلقہ پارٹنر اداروں کی شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

پروگرام میں شرکت کے لیے ضروری شرائط

اس پروگرام میں شرکت کے لیے درخواست دہندہ کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے، جبکہ وہ متحدہ عرب امارات کا شہری یا درست اماراتی آئی ڈی رکھنے والا قانونی رہائشی بھی ہونا چاہیے۔

اسی طرح مدعو کیا جانے والا فرد متحدہ عرب امارات کا رہائشی نہیں ہونا چاہیے اور اسے قانونی سیاحتی ویزے یا ویزا آن ارائیول کے ذریعے دبئی آنا ہوگا۔ حکام کے مطابق ہر اہل رہائشی اس پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ تین ریوارڈ پیکجز حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستانی شہری اس اسکیم سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

پاکستان میں رہنے والے افراد اس پروگرام میں براہِ راست رجسٹریشن نہیں کر سکتے، تاہم اگر ان کا کوئی قریبی رشتہ دار یا دوست دبئی میں قانونی طور پر مقیم ہے تو وہ دبئی انوائٹ پروگرام کے تحت انہیں مدعو کر سکتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت مفت ویزا، فضائی ٹکٹ یا دیگر سفری اخراجات فراہم نہیں کیے جاتے۔ پاکستانی شہریوں کو اپنا سیاحتی ویزا، ایئر ٹکٹ، سفری انشورنس اور دیگر اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔

جبکہ پروگرام کے تحت ملنے والی رعایتوں اور واؤچرز سے دعوت دینے والا رہائشی اور اس کے مہمان مخصوص سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

رجسٹریشن کا طریقۂ کار

دبئی کے اہل رہائشی سرکاری ویب سائٹ یا موبائل پلیٹ فارم پر موجود دبئی انوائٹ پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست کے دوران رہائشی کو اپنی اماراتی آئی ڈی اور ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جبکہ مدعو کیے جانے والے مہمان کا نام، ملک اور متوقع سفری تاریخیں بھی درج کرنا ہوں گی۔

واضح رہے کہ مہمان کی دبئی آمد کی تصدیق کے بعد اگر پروگرام کی تمام شرائط پوری ہو جائیں تو متعلقہ ریوارڈز اور واؤچرز خودکار طریقے سے رہائشی کے اکاؤنٹ میں جاری کر دیے جائیں گے۔

اس پروگرام کی مقررہ تاریخیں کیا ہیں؟

حکومتی اعلان کے مطابق اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے مدعو کیے گئے مہمانوں کا 31 اکتوبر 2026 تک دبئی پہنچنا ضروری ہے۔ اسی طرح پروگرام کے تحت ملنے والے ریوارڈز، ڈسکاؤنٹ واؤچرز اور دیگر مراعات کو دسمبر 2026 کے اختتام تک استعمال کیا جا سکے گا، البتہ ان پر متعلقہ پارٹنر اداروں کی شرائط لاگو ہوں گی۔

دبئی حکومت نے یہ اسکیم کیوں متعارف کرائی؟

یہ پروگرام دبئی کے ڈی 33 اقتصادی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد دبئی کو دنیا کے نمایاں سیاحتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مراکز میں شامل رکھنا ہے۔

مزید پڑھیں: دبئی میں رہائشیوں کے لیے ویزا امیگریشن کا عمل مزید آسان بنا دیا گیا

حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد سیاحت میں کمی کا ازالہ کرنا نہیں بلکہ پہلے سے مضبوط سیاحتی شعبے کو مزید وسعت دینا، بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور مقامی رہائشیوں کو سیاحت کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ’دبئی انوائٹ پروگرام‘ نہ صرف بیرونِ ملک مقیم افراد کو دبئی کی سیر کی ترغیب دے گا بلکہ رہائشیوں کو بھی اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کے ساتھ خصوصی مراعات اور انعامات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں