دبئی میں 2 سالہ رہائشی ویزا حاصل کرنے کا سنہری موقع، کون اور کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دبئی کے حکام نے پراپرٹی سرمایہ کاروں کے لیے دو سالہ رہائشی ویزا سے متعلق قوانین میں اہم ترامیم متعارف کرائی ہیں، جس کے تحت اب سرمایہ کاری کی بنیاد پر ویزا حاصل کرنے کے معیار کو مزید آسان اور لچکدار بنا دیا گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت پیدا کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دبئی کا پرتعیش برج العرب ہوٹل 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا بنی؟

خلیج ٹائمز کے مطابق نئے قواعد کے تحت انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے پہلے موجود کم از کم 7 لاکھ 50 ہزار درہم (750,000 ڈالر) کی پراپرٹی ویلیو کی شرط ختم کر دی گئی ہے، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ جائیداد کا مالک اکیلا ہونا چاہیے۔ اگر جائیداد مشترکہ ملکیت میں ہو تو ہر شریک سرمایہ کار کے حصے کی مالیت کم از کم 4 لاکھ درہم (400,000 ڈالر) ہونی چاہیے تاکہ وہ ویزا کے لیے اہل قرار پائے۔

یہ اپ ڈیٹس دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ادارے ’کیوب سینٹر‘ کے ذریعے جاری کی گئی ہیں، جو ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے۔

ویزا حاصل کرنے کے لیے درکار دستاویزات میں دبئی کی پراپرٹی کا ٹائٹل ڈیڈ، کم از کم 6 ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، امارات آئی ڈی، پاسپورٹ سائز تصویر، یو اے ای کا ہیلتھ انشورنس اور دبئی پولیس کی طرف سے کردار کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ کچھ ممالک کے شہریوں کے لیے قومی شناختی کارڈ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں پاکستان، ایران، عراق، لیبیا اور افغانستان شامل ہیں۔

اگر پراپرٹی مارگیج پر ہو یا اقساط میں خریدی گئی ہو تو بینک یا ڈیولپر سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی ضروری ہوگا، جس میں ادائیگی کی تفصیل اور بقایا رقم درج ہونا لازمی ہے۔

یہ ویزا اسکیم 2019 میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ غیر ملکی شہری بغیر مقامی اسپانسر کے متحدہ عرب امارات میں رہائش، سرمایہ کاری اور کاروبار کر سکیں۔ یہ ویزا قابلِ تجدید ہوتا ہے اور ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دبئی: نامساعد حالات کے باوجود بھارت کے مسلمان بزنس مین کا اپنے ہزاروں ملازمین کی نوکریاں محفوظ رکھنے کا اعلان

دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی مضبوط رہی، جہاں مجموعی لین دین ایک کھرب 38 ارب درہم سے زائد رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں دبئی کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں طویل مدتی ترقی کو فروغ دیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp