اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے روک کر سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر مائیک والٹز نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے موقع فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تفصیلات چھپائی جارہی ہیں، نیویارک ٹائمز
سفارت کاری کو ترجیح
امریکی سفیر مائیک والٹز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا عمل آگے بڑھے، اسی مقصد کے تحت حملوں کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کی نوعیت یا ممکنہ فریقین کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
فوجی کارروائیوں میں وقفہ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والی بمباری کے بعد اپنی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ اسی دوران ہفتے اور اتوار کو نہ تو ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر کسی نئے حملے کی اطلاع ملی اور نہ ہی امریکا کی جانب سے کسی نئی کارروائی کی تصدیق ہوئی۔
مزید پڑھیں:امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ
ترجیح مذاکرات، مگر دباؤ برقرار
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ ابتدا سے ہی سفارتی حل کو ترجیح دیتے آئے ہیں، تاہم ایران کو یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئندہ پیش رفت پر نظریں
امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا دونوں فریقین مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مثبت پیش رفت کرتا ہے یا نہیں۔













