ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تفصیلات چھپائی جارہی ہیں، نیویارک ٹائمز

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اردن میں امریکی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں زخمی ہونے والے درجنوں فوجیوں اور فوجی سازوسامان کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات عوام سے پوشیدہ رکھیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں زخمی ہونے والے درجنوں فوجیوں اور فوجی سازوسامان کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعے کو ایران کے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہونے سے قبل ایران نے صرف ایک ہفتے کے دوران اردن میں تعینات امریکی افواج پر مزید 3 حملے کیے تھے۔

امریکی حکام، جنہوں نے آپریشنل معاملات پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، کے مطابق ان حملوں میں درجنوں امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد فوجی ہیلی کاپٹروں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم پینٹاگون نے نہ تو ان حملوں کا اعلان کیا اور نہ ہی ان میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ جنگ کے دوران آپریشنل سیکیورٹی برقرار رکھنے اور عوام کو جنگ کی حقیقی صورتحال سے آگاہ رکھنے کی حکومتی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

گزشتہ ہفتے ایران کے فوجی اہداف پر امریکی فضائی حملوں کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، تاہم بیان میں اردن سمیت خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ایران جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی، ٹرمپ مستقبل کی حکمتِ عملی پر خاموش

ایک امریکی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ سینٹرل کمانڈ قانونی طور پر اس بات کی پابند نہیں کہ زخمی فوجیوں کی معلومات عوام کے سامنے لائے، خاص طور پر ایسے اہلکاروں کی جو معمولی علاج کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں۔

ایک اور امریکی فوجی اہلکار کے مطابق اگر پینٹاگون ایسے حملوں کی مکمل تفصیلات جاری کرے تو اس سے ایران کو یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں نے کس حد تک کامیابی حاصل کی، جس سے مستقبل میں امریکی اڈوں کو مزید مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے سینٹرل کمانڈ نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے اندر روزانہ نشانہ بنائے جانے والے فوجی اہداف کی تعداد بھی ظاہر کرنا بند کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تقریباً 5 ماہ سے جاری جنگ اور حالیہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پینٹاگون نے امریکی جنگی حکمت عملی کے بارے میں بھی محدود معلومات فراہم کی ہیں، جبکہ اس جنگ پر آخری تفصیلی بریفنگ مئی کے اوائل میں دی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اس بارے میں بھی مکمل معلومات جاری نہیں کیں کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں امریکا کے مہنگے اور اہم ہتھیاروں کے ذخائر کس حد تک متاثر ہوئے، یا ایران نے اپنی میزائل صلاحیت کو کس حد تک برقرار رکھا اور دوبارہ بحال کیا۔

امریکی فوجی جانی نقصانات کا معاملہ بھی انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ جمعے کو اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور شمالی عراق میں ایک اور فوجی کی موت کے بعد 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

پینٹاگون کی پالیسی کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جاتی جب تک ان کے اہل خانہ کو باقاعدہ اطلاع دیے جانے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے نہ گزر جائیں، جبکہ زخمی اہلکاروں کے نام عموماً جاری نہیں کیے جاتے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ جمعے کے حملے میں زخمی ہونے والے 4 امریکی فوجیوں کو اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم علاج کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مزید کئی فوجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں اور وہ دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے، لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

بیان میں اردن میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دیگر 3 حملوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ایران تنازع: کویت میں ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز نیشن سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں نے ’ملک کی خدمت کرتے ہوئے جان قربان کی‘ اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اس جنگ کا بنیادی مقصد ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے امریکا کے عزم میں مزید مضبوطی آئے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اب تک 400 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں پینٹاگون زخمی ہونے والے فوجیوں کی مجموعی تعداد باقاعدگی سے جاری کرتا رہا، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس حوالے سے اعداد و شمار کی تازہ کاری روک دی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق امریکی حکومتوں کے ادوار میں بھی زخمی فوجیوں سے متعلق معلومات اہل خانہ کو اطلاع دینے کے بعد ہی جاری کی جاتی تھیں، جبکہ جو بائیڈن کے دور میں ایران نواز گروپوں کی جانب سے شام اور عراق میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کی جاتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp