پاکستان کا بحران اور نوجوانوں کی خاموشی

پیر 27 جولائی 2026
author image

شبیر ڈار

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں منظم طلبا تحریک نے پرامن اور منظم احتجاج کے ذریعے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور یہ پیغام دیا کہ جمہوری معاشروں میں عوامی آواز کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ امتحانی بے ضابطگیوں کے مسئلے سے شروع ہونے والی یہ تحریک چند ہی دنوں میں عالمی توجہ کا مرکز بن گئی اور اس نے یہ ثابت کیا کہ نظم، اتحاد اور واضح مطالبات کسی بھی احتجاج کو مؤثر بنا سکتے ہیں۔

اس تحریک سے ہمارے لیے بھی کئی سبق ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بدقسمتی سے احتجاج اکثر سڑکوں کی بندش، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور عوامی مشکلات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ جب بھی احتجاج ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری، مزدور، دیہاڑی دار اور روزگار کے لیے نکلنے والے لوگ اٹھاتے ہیں۔ سڑکیں بند ہونے سے معمولِات زندگی مفلوج ہو جاتی ہے، املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور احتجاج کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

ایک مؤثر احتجاج وہ ہوتا ہے جو اپنے مطالبات پر توجہ مرکوز رکھے، پرامن رہے، عوام کی ہمدردی حاصل کرے اور ریاستی یا عوامی املاک کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی بات مؤثر انداز میں سامنے رکھے۔ احتجاج کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے حالات پیدا کرنا جن سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہو یا کسی کی جان کو خطرہ ہو۔

دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران کا شکار نہیں، بلکہ یہاں آئینی، سیاسی، عدالتی، معاشی اور سماجی بحران ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، متوسط طبقہ تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہا ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگل رہی ہے، ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، معیاری تعلیم ایک کاروبار بن گئی ہے، انصاف کے ادارے بے بس نظر آتے ہیں جبکہ خور و نوش کی بنیادی اشیا ہر دوسرے روز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

آج سوال یہ ہے کہ جب تعلیم مسلسل مہنگی ہو رہی ہے، لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار سے محروم ہیں، سرکاری اسپتالوں میں دوائیں ناپید ہیں اور نجی شعبے میں علاج ایک عام شہری کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے، تو اس پر کوئی کیوں نہیں آواز اٹھاتا؟ یونیورسٹیوں کے نمائندہ فورمز کہاں ہیں؟ نوجوانوں کی منظم آواز کیوں سنائی نہیں دیتی؟

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل سیاست سے لاتعلق ہوتی جا رہی ہے، اور یہ لاتعلقی درحقیقت اپنے مستقبل سے لاتعلقی ہے۔ جب فیصلے آپ کی شرکت کے بغیر ہوں گے تو ان کے نتائج بھی آپ ہی کو بھگتنا ہوں گے۔ مہنگائی کسی جماعت کے ووٹر کو نہیں دیکھتی، وہ ہر گھر کا چولہا ٹھنڈا کرتی ہے۔ بے روزگاری کسی نظریے سے نہیں پوچھتی، وہ ہر نوجوان کے خواب توڑتی ہے۔ مہنگی تعلیم صرف والدین کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی بلکہ پورے ملک کے مستقبل کو کمزور کرتی ہے، جبکہ مہنگی ادویات زندگی اور موت کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ نوجوانوں نے بپا کی ہیں۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کی جگہ نہیں ہوتیں بلکہ قومی شعور کی نرسریاں ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں طلبا تنظیمیں مہنگی تعلیم، بے روزگاری، سماجی انصاف، شفاف انتخابات، آئینی حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے منظم جدوجہد کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں برسوں سے طلبا سیاست اور طلبا تنظیموں کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا کہ جامعات میں اجتماعی شعور کی جگہ خاموشی نے لے لی۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست دہائیوں سے چند خاندانوں، محدود سیاسی اشرافیہ اور روایتی طاقت کے مراکز کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، لیکن عام آدمی کے مسائل وہی رہتے ہیں۔

ہر انتخاب میں نئے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر مہنگائی کم نہیں ہوتی، تعلیم سستی نہیں ہوتی، ادویات عام آدمی کی پہنچ میں نہیں آتیں اور روزگار کے مواقع میں وہ اضافہ نہیں ہوتا جس کا نوجوان برسوں سے انتظار ہے۔ آخر یہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کب تک چلتی رہے گی؟

اس سے بھی زیادہ تشویشناک کردار میڈیا کا ہے۔ صحافت کا بنیادی فرض اقتدار کے ایوانوں کی ترجمانی نہیں بلکہ عوام کی نمائندگی ہے۔ میڈیا کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ مہنگی تعلیم، مہنگی ادویات، بے روزگاری، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، عوامی مسائل، آئینی معاملات اور حکومتی کارکردگی پر مسلسل سوال اٹھائے۔

اگر میڈیا عوام کی آواز کے بجائے صرف طاقتور حلقوں کے بیانیے کو جگہ دے تو پھر عام آدمی کی آواز کون بنے گا؟ صحافت کی اصل طاقت سوال پوچھنے میں ہے، سوالوں سے فرار اختیار کرنے میں نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا نیوز رومز گونگے ہوچکے ہیں بعض اوقات اصل خبر اور ادارتی ترجیحات عوامی مسائل سے زیادہ مصلحتوں کے گرد گھومتی محسوس ہوتی ہیں۔

پاکستان کی جین زی کو سوشل میڈیا کی وقتی بحثوں، شخصیت پرستی اور جذباتی نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اسے یونیورسٹیوں میں علمی مکالمے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، طلبا تنظیموں کو آئینی، جمہوری اور پُرامن انداز میں فعال بنانا ہوگا، تحقیق، دلیل اور شعور کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا، اور ہر اس پالیسی پر سوال اٹھانا ہوگا جو عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں باشعور نوجوان ہی ریاست اور معاشرے کے درمیان احتساب اور اصلاح کا سب سے مضبوط ذریعہ بنتے ہیں۔

تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جن کے نوجوان خاموش تماشائی نہیں بلکہ باشعور شہری کے طور پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ خاموش نسلیں تبدیلی کا انتظار کرتی رہتی ہیں، جبکہ بیدار نسلیں تبدیلی کی بنیاد رکھتی ہیں۔ اگر آج بھی نوجوان خاموش رہے تو آنے والی نسلیں شاید یہی لکھیں گی کہ پاکستان کو نوجوانوں کی ضرورت تھی، مگر نوجوان اپنے موبائل فون کی اسکرینوں میں مصروف رہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp