اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

منگل 22 ستمبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے۔ پچھلی مرتبہ ریاست کو ماں جیسا سمجھ کر غلطی کر بیٹھے تھے، اس بار تیاری کے ساتھ آئیں گےاور منہ توڑ کر رکھ دیں گے۔ آزادی لیں گے یا شہادت ، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ خان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ خان نہیں تو ہمیں یہ ملک نہیں چاہیے۔ جن لوگوں کے پاس حکومت ہےا س سے بہتر ہے ملک پر ایٹم بم مار دیا جائے۔ اس سے تو اچھا ہے ہم افغانستان چلے جائیں ۔۔۔ یہ وہ بیانیہ ہے جو پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سے محرومی کے بعد تشکیل دیا ہے۔ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ ہے یا  یہ کسی عشق مجہول کے ملنگ ہیں جو دنیا سے بے نیاز حالت رقص میں ہیں۔

یہ سیاسی آزادیوں اور حقوق انسانی کا مقدمہ ہی نہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف نے حقوق انسانی سے لے کر آئینی آزادیوں تک ہر اس تصور کو ویپنائز کر دیا ہے جو سیاست ، دستور اور جمہوریت سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج سیاست کا حصہ ہےا ور گاہے اس میں اشتعال بھی آ جاتا ہے لیکن یہ وقتی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کیفیت اگر مسلسل ہی طاری رہے تو پھر اس کا شافی علاج تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ اس ہمہ جہت ہیجان، نفرت ، اشتعال اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

احتجاج کی آزادی جتنی اس جماعت کو ملی ، پارلیمانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آزادی رائے کا جتنا سوئےا ستعمال اس جماعت نے کیا کوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ڈی چوک میں مہینوں، قبریں کھود کر اور ریاست کی عملداری کو تماشا بنا کر جو احتجاج ہوتا رہا، وہ اپنی مثال ہے۔ اس معاشرے میں ہر فرد کی جس طرح پگڑی اچھالی گئی اور ہر مخالف کو جس طرح رسوا کیا گیا آزادی رائے کے ایسے اودھم کی بھی کوئی مثال کہیں دستیاب نہیں ہے۔

اسی عدم توازن نے انہیں یہ دن دکھائے ہیں ۔ اب ان کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ اسی رویے کا جواب آں غزل ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے، یہ ایسے کو تیسا ہے ۔ یہ سیر نہیں ہے یہ سیر کو سوا سیر ہے۔ یہ تنگ آمد بجنگ آمد ہے۔ ان کے مسلسل احتجاج ، ہیجان ، نفرت اور اشتعال پر مبنی سیاست کے ان مظاہر کے بعد یہ سب ہونا ہی تھا۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ سیاست اور احتجاج ایک چیز ہے اور ریاست پر دھاوا بول دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ بلوائیوں کے جتھوں کو کوئی نیشن سٹیٹ برداشت نہیں کرسکتی۔

ان کا بیانیہ دیکھیں، بجائےا س کے کہ یہ کہیں ہم پر امن لوگ ہیں، پہر امن احتجاج کرتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں، یہ اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دیتے ہیں، یہ آزادی اور شہادت کا نعرہ لگاتے ہیں۔ یہ ریاست اور حکومت کا فرق بھول جاتے ہیں۔ ان کا کپتان اقتدار میں نہ ہو تو گویا ریاست بھی ان کے لیے ولن ہے۔

یہ دنیا کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنا بیانیہ اور اپنے کارکن اور اپنی حکمت عملی سب کچھ سوشل میٖڈیا کے طفلان خود معاملہ کے حوالے کر رکھا ہے۔ سیاسی بصیرت کہیں نظر نہیں آتی۔ ہیجان، تخریب، نفرت اور اشتعال ان کا تعارف بن چکا ہے۔ اس کے بعد کیا وفاق میں انتظامی مشینری ان کے لیے پھول لے کر کھڑی ہو گی؟

مزید پڑھیے: نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟

یہ جمہوری رویہ نہیں ہے، یہ کلٹ اور فاشزم ہے۔ جمہوریت دوسروں کے وجود کو بزداشت کرنے کا نام ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ عدم اعتماد ہو جائے تو یہ اسے پانی پت کا میدان بنا دیتے ہیں۔ یہ اپنےسوا کسی کے روادار نہیں۔ یہ کلٹ خود کو ہی معیار حق سمجھتا ہے۔ ساری جہاں کی آلائشیں دامن میں لے کر کوئی ان کی صف میں آ جائے تو وہ مرد قلندر قرار دیا جاتا ہے اور جو ان کی صف میں نہیں ہے، وہ دنیا کا سب سے بڑا خائن، بے ایمان اور چور ہے۔

تصادم، نفرت ، اشتعال اور انتشار کی سیاست نے نہ تحریک انصاف کو کچھ دیا ہے یا اس کے کارکنان کو۔ صرف ’یوٹیومرز‘ کا دھندا چمکا ہے جو الگوردم کے مشکوک کھیل میں باقاعدہ ویپنائز ہو چکا ہے۔

اب بھی وقت ہے۔ سیاست میں دھوپ چھاؤں آتی رہتی ہے مگر اس کا حل سیاسی بصیرت سے ہی نکلتا پے۔ غیر سیاسی وکلا کے لشکر جمع کر لینا سیاسی تجربے اور بصیرت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ’یو ٹیومرزٗ‘ کوئی معقول سیاسی بیانیہ پیش کر سکتے ہیں۔ سیاسی جماعت کی پالیسی کے خدوخال وضع کرنے کا کام  اہل سیاست ہی کو زیبا ہے۔ یہ مشتعل مزاج  نا تراشیدہ چھوکروں کا کام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سمجھدار اہل سیاست کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ان کی صف میں جو رہنما معقول بات کرتا ہے وہ اپنی ہی جماعت میں زیر عتاب آ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: یوم دفاع: ہمارے غیر مسلم جنگی ہیرو

سیاست کے دامن میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل نکال سکے۔ سیاست بند گلی سے راستہ نکالنے کا نام ہے۔ خود کو اور اہنے کارکنان کو بند گلی میں دھکیلنے کا نام سیاست نہیں ہے۔ تحریک انصاف کو بند گلی سے باہر نکلنا چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی