مدین اور ہری پور میں معصوم بچیوں کے قتل پر حکومتی اور اداروں کی جانب سے توجہ نہ دینے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
وی نیوز کے سوال کہ مدین میں 9 سالہ ایشمل کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، اسی طرح ہری پور میں بھی 5سالہ بچی کے قتل کا واقعہ سامنے آیا، کیا حکمرانوں کی اس معاملے میں دلچسپی نہیں؟ ہری پور کے حالات اگرچہ بڑے پرسکون تھے لیکن وہاں بھی اس طرح کے واقعات شروع ہوچکے ہیں، اس پر آپ کیا کہیں گی؟
یہ بھی پڑھیں: ہری پورمیں لاپتا 5 سالہ بچی کی لاش کنویں سے برآمد، پولیس نے 5 مشتبہ ملزمان شناخت کرلیے
چائلڈ پروٹیکٹر کی چیئرپرسن انیلہ ایاز چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایشمل والا کیس انہوں نے دیکھا ہے جو مدین کے علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر برقع پوش خواتین نے احتجاج کیا، شٹل کاک برقع پہننے والی خواتین نے احتجاج ریکارڈ کرایا اور تکلیف محسوس کرتے ہوئے باہر نکل کر احتجاج کیا۔
انیلہ ایاز چوہدری نے کہا کہ انہوں نے کسی سیاسی شخصیت یا کسی ادارے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بات نہیں سنی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایمانداری سے بات کریں گی کیونکہ وہ سچ زیادہ بولتی ہیں اور اس وجہ سے اکثر مسائل بھی کھڑے ہوجاتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس جواب پر بہت سے لوگ ان کے خلاف بیانات دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کیا کرنا چاہیے؟ ہری پور کے لوگوں کی رائے
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دور میں نئی نہیں ہیں اور نہیں چاہتیں کہ لوگ ان کے خلاف زیادہ بیان بازی کریں، تاہم جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کسی سیاسی شخصیت یا کسی ادارے کی جانب سے اس واقعے پر کوئی بات یا احتجاج کے 2 الفاظ بھی نہیں سنے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے 9سالہ یتیم بچی ایشمل کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سلطان محمد نے دوران تفتیش اعترافِ جرم کیا تھا، تاہم عدالت میں اس نے جرم سے انکار کردیا۔ پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور جسمانی تشدد کی تصدیق ہوئی۔
واقعے کے خلاف مدین میں خواتین بھی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں اور ملزم کو سخت سزا دینے اور بچوں کے تحفظ کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مظفر گڑھ سے 3 کمسن بہنوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے علاقے ہری پور میں 5 سالہ آیت نور گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی اور لاپتا ہوگئی۔
تقریباً 15 روز بعد اس کی لاش ایک ویران کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی کی تصدیق ہوئی، جبکہ پولیس نے 3ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
تینوں ملزمان نے مبینہ طور پر مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعدازاں اسے کنویں میں پھینک دیا۔













