سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

منگل 22 ستمبر 2026
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سید ولی رضا نصر ایرانی نژاد امریکی مفکر ہیں۔ امریکی سیاسیات کے ماہر، مشرق وسطیٰ اور اسلامی سیاست کے محقق ہیں۔ مختلف امریکی جامعات اور تحقیقی اداروں سے وابستہ رہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ’اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے برسوں تک ڈین رہے ہیں۔

ولی نصر نے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی فکر پر نہایت باریکی بینی سے برسوں تک تحقیق کی۔ وہ مولانا مودودی کو اسلامی نظریاتی مفکرین میں پہلے اور اہم ترین شخصیات میں شمار کرتے ہیں۔

انہوں نے ایک کتاب ’ Mawdudi and the Making of Islamic Revivalism ‘ لکھی جس میں انھوں نے بتایا کہ سید مودودی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے جدید سیاسی اسلامی نظریہ اور اپنے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سماجی عمل کا ایک منصوبہ تیار کیا۔

ان کی قائم کردہ’جماعتِ اسلامی‘ کی بھرپور تحریری کاوشوں اور انتھک کوششوں نے، پہلے ہندوستان میں، پھر پاکستان میں اور پھر پوری دنیا میں دور دور تک، سید مودودی کے افکار کو پھیلایا۔ ان کے خیالات نے بالخصوص مراکش سے ملائیشیا تک، احیائی تحریکوں (revivalism) کو متاثر کیا ہے۔

سید مودودی کی شخصیت، ان کی فکر اور کام پر دیگر متعدد محققین نے بھی تحقیق کی۔ ان میں امریکی سیاسی مفکر لیونارڈ بائنڈر، جرمن محقق سائمن وولف گانگ فوکس، جرمن محقق و اسکالر جان پیٹر ہارٹنگ بھی شامل ہیں۔ کینیڈین نژاد معروف مذہب کے محقق ولفریڈ کینٹ ویل اسمتھ نے سید مودودی کو ’جدید اسلام کا سب سے بڑا  منظم مفکر‘ قرار دیا جبکہ امریکی محقق چارلس جے ایڈمز  نے  انھیں ’نظریہ ساز‘ کہا۔

مصر کے سید حسن البنا ہوں یا سید قطب، ایران کے علی شریعتی ہوں یا امام خمینی، عراق کے محمد باقر الصدر ہوں یا محمد تقی مدرسی، ان سب کی فکر اور کام میں سید مودودی کے نظریہ کی جھلک تھوڑی یا بھرپور نظر آتی ہے۔

سید مودودی کی تحریریں بنیادی طور پر اردو زبان میں تھیں جن کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا تو  انھوں نے مشرق وسطیٰ اور اردگرد  اخوان المسلمون کی فکر کو مضبوط کیا۔ فارسی زبان میں ترجمہ ہوئیں تو ایران اور عراق میں شیعہ سیاسی فکر میں بعض تصورات کو نئی تعبیر بخشی۔ یوں عرب و عجم میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی بحث اور جدوجہد تیز ہوئی۔ اسی جدوجہد کو  آج مغربی دنیا کے حکمران طبقات  ’سیاسی اسلام‘  کا عنوان دیتے ہیں اور اسی جدوجہد کے مقابل فکر مند ہیں۔

25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد میں پیدا ہونے والے سید مودودیؒ کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً نصف صدی ہونے کو ہے، مگر ان کا نام آج بھی اسلامی فکر، قرآن فہمی، اسلامی ریاست، تہذیب، سیاست اور مسلمان کے اجتماعی کردار پر ہونے والی بحثوں میں بار بار سامنے آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک بڑی تعداد کے اذہان و قلوب  کیسے سید مودودی کی تحریریں پڑھ کر مسخر ہوئے؟

اس کا جواب بہت آسان ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں مسلمان کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھے جب دنیا تیزی سے ایک نئی فکری سمت میں جا رہی تھی۔

سید مودودیؒ کی فکر کا ایک بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اسلام کو صرف چند عبادات، رسوم اور انفرادی اخلاق تک محدود کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسلام انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرتی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سیدؒ کی تحریروں میں قرآن، حدیث، اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور ریاست جیسے موضوعات ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی ایک بھی دوسروں سے الگ نہیں۔

’تفہیم القرآن‘ سید مودودی کے فکری منصوبے کا سب سے نمایاں اظہار ہے۔ جس کے ذریعے قرآن مجید کے پیغام کو ایک منفرد انداز میں عام پڑھے لکھے انسان کے لیے سمجھنے کے قابل بنانے کی ایک منظم کوشش کی گئی۔ سید مودودیؒ نے 1942ء میں اس کام کا آغاز کیا اور 1972ء میں اسے مکمل کیا۔

تفہیم القرآن اپنے قاری کو آغاز ہی سے سمجھا دیتی ہے کہ قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ زندگی کے لیے ایک مکمل رہنما کتاب ہے۔ جوں جوں ایک نوجوان تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے، ایک نئی فکر سے روشناس ہوتا چلا جاتا ہے۔

سید مودودیؒ جس دور میں منظر عام پر  آئے وہ مسلمانوں کے لیے غیر معمولی فکری تبدیلیوں کا دور تھا۔ مغربی تہذیب، قوم پرستی، اشتراکیت، سیکولرازم، جدید سیاسی نظام اور نوآبادیاتی تجربہ، یہ سب مسلم معاشروں کے سامنے نئے سوالات کھڑے کر رہے تھے۔

سید مودودیؒ نے ان سوالات سے فرار اختیار کرنے کے بجائے ان کا جواب اسلامی فکر کے اندر تلاش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک مسلمان کو احساس دلایا کہ جدید دنیا کے فکری سوالات سے بچ کر نہیں، ان کا سامنا کرکے اپنی دینی فکر کو سمجھنا ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ سید مودودی کا تصنیفی کام محض مذہبی موضوعات تک محدود نہیں ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، تاریخ اور سیاسی فکر سمیت متعدد شعبوں میں انھوں نے بھرپور کام کیا۔

سید مودودیؒ کی فکر کا سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو اسلام اور سیاست کا تعلق ہے۔

1941ء میں انہوں نے جماعتِ اسلامی قائم کی۔ یہ اسلام کو ایک اجتماعی نظام کے طور پر پیش کرنے والی منظم تحریک تھی۔ سید مودودی سیاست کو اسلام سے الگ یا غیر متعلق شعبہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام کے اجتماعی اصولوں کی بنیاد پر ریاست اور معاشرے کی تشکیل ہونی چاہیے۔

سیدؒ کے حامی اس فکر کو اسلام کے اجتماعی تصور کی مضبوط توضیح سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے سیاسی تصورات اور ریاست کے بارے میں ان کے نظریات پر مختلف اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سید مودودیؒ محض ایک ایسے مصنف نہیں تھے جنہیں پڑھ کر کتاب بند کردی جائے بلکہ ان کے خیالات نے سنجیدہ فکری اور سیاسی مباحث کو جنم دیا۔ یہی ایک بڑے مفکر کی پہچان ہوتی ہے۔

سید مودودیؒ کی اصل میراث کیا ہے؟

میرے نزدیک سید مودودیؒ کی سب سے بڑی میراث کسی ایک سیاسی جماعت، کسی ایک کتاب یا کسی ایک سیاسی تصور کا نام نہیں۔ ان کی بڑی میراث سوال اٹھانے کا ایک انداز ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو اس مقامِ فکر پر لا کھڑا کیا کہ کیا اسلام صرف مسجد تک محدود ہے؟ کیا قرآن مجید صرف تلاوت کے لیے ہے یا اس میں زندگی کی رہنمائی کے لیے بھی سامان ہے؟ اور  کیا ایک مسلمان کو جدید تہذیب کے سامنے دفاعی پوزیشن اختیار کرلینی چاہیے یا اسے اپنی فکری بنیادوں پر جدید دنیا کے سوالات کا جواب دینا چاہیے؟ کیا دین صرف فرد کی اصلاح کا نام ہے یا معاشرے کی اصلاح بھی اس کا حصہ ہے؟ اور اگر اسلام واقعی ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے تو پھر اس کے اخلاقی اصول ہماری سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت اور معاشرت میں کہاں نظر آنے چاہئیں؟ ان سوالات کے جوابات پر اختلاف ہوسکتا ہے، بلکہ ہونا بھی چاہیے۔ لیکن ان سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج کا مسلمان نوجوان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں معلومات کی کمی نہیں، کثرت ہے۔ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کے نظریات اس کی اسکرین پر ہوتے ہیں۔ مذہب، الحاد، سرمایہ داری، اشتراکیت، قوم پرستی، لبرل ازم، سیکولرازم اور بے شمار دوسرے تصورات ایک ہی ڈیجیٹل بازار میں موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں  ہے کہ ’اسلام ہمارا دین ہے‘۔

جب ایک مسلمان نوجوان کے سامنے یہ دعویٰ کیا جائے گا تو وہ پوچھے گا: کیوں؟ اس دین کی دلیل کیا ہے؟ اس کا تصورِ انسان کیا ہے؟ اس کا تصورِ اخلاق کیا ہے؟ یہ دنیا کو کیسے دیکھتا ہے؟ معاشرے کو کیسے بہتر بنانا چاہتا ہے؟ اور جدید دنیا کے مسائل کے بارے میں اس کے پاس  رہنمائی کا کیا سامان موجود ہے؟

ان سوالات کے جواب میں روایتی مذہبی طبقہ اسے کہتا کہ آنکھیں بند کرکے مان لو کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ لیکن سید مودویؒ نے ان سب سوالات کو اہمیت دی اور آخری حد تک کوشش کی کہ سوال کرنے والے کو اطمینان بخش جواب مل جائے۔

یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سید مودودی کی فکر سے متاثر ہوتا ہے اور اسے مزید پڑھنا چاہتا ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سید مودودی کی فکر کا مطالعہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں کے تراجم کم از کم 40 سے زائد زبانوں میں ہوئے ہیں، جبکہ ایک معتبر اردو ماخذ کم از کم 43 زبانوں کا عدد دیتا ہے۔

دستیاب فہرستوں میں انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، بنگالی، گجراتی، سندھی، پشتو، تامل، ملیالم، انڈونیشی، سواحلی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، ترکی، پرتگالی، جاپانی، تھائی، ڈینش، ہاؤسا اور دیگر زبانیں بھی شامل ہیں۔

ان کی صرف ایک کتاب ’دینیات‘ کی بات کی جائے تو وہ دنیا کی بیس بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوئی۔ انگریزی ترجمہ ’ Towards Understanding Islam ‘ کے عنوان سے ہوا۔

دنییات کے علاوہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتب میں  تفہیم القرآن، پردہ، اسلامی قانون اور دستور، خطبات، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، اسلام کا معاشی نظام، اسلامی ریاست، خلافت و ملوکیت اور الجہاد فی الاسلام شامل ہیں۔ ان کتب سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج بھی سید مودودی کو سب سے زیادہ پڑھنے والے کن سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہیں۔

ایک کتاب جو اردو میں لکھی گئی، عربی میں پہنچی، پھر انگریزی، فارسی، فرانسیسی، جرمن، ترکی، افریقی اور جنوب مشرقی ایشیائی زبانوں میں پڑھی گئی، وہ محض ایک مقامی سیاسی رہنما کی کتاب نہیں رہتی۔ اسی لیے پوری دنیا میں سید مودودیؒ کا مطالعہ آج بھی جاری ہے۔

سید مودودیؒ کی کتابوں کی سب سے بڑی دلچسپ داستان یہ ہے کہ برصغیر کی ایک زبان میں لکھی گئی فکر نے متعدد زبانوں میں جا کر نئے سوال پیدا کیے۔ اور پھر انہی سوالات پر دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم دانشوروں نے بحث کی۔

سید مودودی کو کیسے پڑھا جائے؟

سید مودودیؒ  کو پڑھنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں ہے کہ پہلے سے طے شدہ عقیدت یا مخالفت کے ساتھ ان کے پاس جایا جائے۔ بلکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں پڑھا جائے، ان کے دلائل سمجھے جائیں، دلائل کے تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے، ان کے مضبوط نکات پر غور کیا جائے اور جہاں اختلاف ہو وہاں دلیل کے ساتھ اختلاف کیا جائے۔

سید مودودیؒ  بائیس ستمبر 1979ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے اٹھائے ہوئے سوال آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے، شخصیات چلی جاتی ہیں، تحریکیں بدل جاتی ہیں، لیکن بڑے سوال باقی رہتے ہیں۔ اور جب کسی انسان کے بعد بھی اس کے سوال زندہ رہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی گفتگو ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp