سپریم کورٹ نے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں چینی انجینئرز پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے میں 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق حکومتی اپیل کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تمام ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں اور کیا وہ اپنی قانونی نمائندگی کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایک مقدمہ، ایک فورم‘، سپریم کورٹ کے فیصلے کی 10 نمایاں قانونی بنیادیں سامنے آگئیں
اس موقع پر ایک شریک ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ غریب لوگ ہیں، ریڑھی لگا کر روزگار کماتے ہیں اور وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر دہشتگردی میں سہولت کاری جیسے سنگین الزامات ہیں، اس لیے وہ معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور وکیل مقرر کریں۔
عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ شریک ملزم نذیر کا سم کارڈ خودکش حملہ آور کے زیر استعمال تھا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی
عدالت نے تمام ملزمان کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوں، بصورت دیگر ان کی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے بشام میں 26 مارچ 2024 کو ہونے والے خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز اور ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
حکومت نے اس مقدمے میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔













