22 اگست 2023 کو پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کی نظریں ٹی وی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پر جمی ہوئی تھیں، جہاں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں 8 افراد ایک ٹوٹی ہوئی کیبل کار میں دریا کے اوپر معلق زندگی اور موت کی کشمکش میں پھنسے ہوئے تھے۔
تقریباً 14 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس سنسنی خیز ریسکیو آپریشن کی داستان اب معروف پاکستانی فلم ساز محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کے ذریعے بڑی اسکرین پر پیش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بٹگرام حادثہ: بچوں کو موت کے منہ سے بچانے والا گمنام ہیرو ’صاحب خان‘ کون ہے؟
یہ فلم 28 اگست سے شمالی امریکا میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی، جبکہ رواں سال کے آخر میں برطانیہ میں بھی اس کی نمائش متوقع ہے۔
پاکستان، امریکا اور برطانیہ کے اشتراک سے تیار کی گئی اس فلم میں ہالی ووڈ کے یونیورسل پکچرز کانٹینٹ گروپ نے بھی حصہ لیا ہے۔
Experience the pulse-pounding true story of "Hanging by a Wire"! Mohammed Ali Naqvi's documentary recounts an incredible rescue in Pakistan where 8, including schoolboys, hung 900ft above a ravine. In theaters August 28. #TrueStory #HangingByAWirehttps://t.co/HHQYtAd1sa pic.twitter.com/Gv8jjQgev7
— Snooper-Scope (@Snooper_Scope) July 20, 2026
فلم کا عالمی پریمیئر رواں سال سنڈانس فلم فیسٹیول میں ہوا، جبکہ اسے سڈنی، سیئٹل اور نیویارک کے ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
محمد علی نقوی کا کہنا ہے کہ یہ فلم اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما عالمی معیار کی متاثرکن اور سنسنی خیز کہانیاں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی کہانیاں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتی ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ فلم مزید پاکستانی فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
مزید پڑھیں: بٹگرام چیئرلفٹ میں پھنسے 3 طالبعلم میٹرک بورڈ میں کامیاب
ایمی ایوارڈ یافتہ محمد علی نقوی اس سے قبل ’شیم‘ ’امنگ دی بیلیورز‘ اور ’پاکستانز ہڈن شیم‘ جیسی معروف دستاویزی فلموں سے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
فلم کے پروڈیوسر بلال سمی ’لال کبوتر‘ اور ’دوبارہ پھر سے‘ سمیت کئی کامیاب منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں۔
فلم میں بٹگرام کے اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی مکمل روداد پیش کی گئی ہے، جب کیبل کار کی 2 تاریں ٹوٹنے سے جن میں 6 اسکول کے بچوں سمیت 8 مسافر فضا میں معلق ہوکر رہ گئے تھے۔
مزید پڑھیں: بٹگرام واقعہ، دن بھر کیا ہوتا رہا؟
ابتدائی مرحلے میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے امدادی کارروائی کی، تاہم خراب موسم کے باعث صرف 2 بچوں کو نکالا جا سکا۔
بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے باقی بچ جانے والی واحد کیبل کے ذریعے معلق کیبل کار تک رسائی حاصل کی اور رات گئے تمام مسافروں کو ایک ایک کرکے بحفاظت نکال لیا۔
یہ کیبل کار دریائے جھنگڑی کے دونوں کناروں کے درمیان آمدورفت کا واحد ذریعہ تھی کیونکہ علاقے میں نہ سڑک تھی اور نہ ہی پل۔
واقعے کے بعد حفاظتی معائنے کے لیے علاقے میں چلنے والی دیگر نجی کیبل کار سروسز بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں۔













