ٹرمپ کا 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا نیا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور چینی مداخلت کے الزامات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے انتخابات سے قبل 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی، جس کے باعث وہ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ماضی میں متعدد عدالتیں 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسترد کر چکی ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے جمعرات کی شب قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا کہ 2020 کا صدارتی انتخاب، جس میں انہیں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، شفاف نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

انہوں نے الزام عائد کیا کہ چین نے انتخابات سے قبل 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، جسے انہوں نے ’انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی دراندازی‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں اور ایسی انٹیلیجنس دستاویزات کو بھی منظرعام پر لائیں گے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے ووٹنگ سسٹم کی سنگین کمزوریاں بے نقاب ہوتی ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چین نے ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل بھی کی تو اس سے اس وقت کے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو انتخاب جیتنے میں کس طرح مدد ملی۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار

اپنے تقریباً 24 منٹ کے خطاب میں ٹرمپ نے امریکی انتخابی نظام کو ’انتہائی ناقص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہے، لیکن انہوں نے ووٹوں میں ردوبدل یا انتخابی نتائج تبدیل کیے جانے کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر اور ایف بی آئی کو ان الزامات کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مبینہ ڈیٹا چوری کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

خطاب کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی، جس پر مختلف تحقیقاتی فائلوں، انٹیلیجنس تجزیوں اور سرکاری خط و کتابت کے منتخب حصے بغیر مکمل سیاق و سباق کے شائع کیے گئے۔

مزید پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکی انتخابی نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے محفوظ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکام ان ریاستوں کو بھی مطلع کر رہے ہیں جن کے انتخابی ڈیٹا کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کانگریس سے ایک بار پھر سیو ایکٹ منظور کرنے کا مطالبہ بھی کیا، مجوزہ قانون کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے تصویری شناختی کارڈ لازمی قرار دینے، ووٹر رجسٹریشن کے وقت شہریت کا ثبوت طلب کرنے اور وفاقی حکومت کو ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ تک مزید رسائی دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: چین نے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بنا کر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی عدالتیں درجنوں مقدمات میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر ان الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد نومبر میں ہونے والے وسط مدتی یعنی مڈٹرم انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کرنا ہے، جہاں ان کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شوہر کی دوسری شادی کے موقع پر پہلی بیوی کا دھاوا، تقریب منسوخ اور شوہر پولیس کے حوالے

بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت، افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان؟

بے بی پاؤڈر سے کینسر : جانسن اینڈ جانسن نے  76 ہزار مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے  5.5 ارب ڈالر  ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا

آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ پرامن اور شفاف رہا، چیف الیکشن کمشنر

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ شفاف رہا، مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل، عطا اللہ تارڑ

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر برتری حاصل کرلی، پیپلز پارٹی 4 پر کامیاب

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی