چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، نگران حکومت نہیں، اس لیے وہاں ہونے والے انتخابات مکمل طور پر شفاف ہونے چاہییں تھے، تاہم میرپور میں ووٹ پر کھلم کھلا ڈاکا ڈالا گیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کا اپنا نظام ہے، انہوں نے انتخابی مہم کے دوران متعدد جلسے کیے، لیکن کسی جلسے میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم یا صدر کو اپنے ساتھ نہیں لے کرگئے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام 2تہائی اکثریت دلائیں تو آزاد کشمیر کا فیصلہ پنجاب یا سندھ نہیں، مظفرآباد میں ہوگا: بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کے لیے بسیں بھیجی گئیں، جبکہ دوسری جانب یہاں آٹے کی ترسیل روک دی گئی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا مؤقف کوئی نیا نہیں بلکہ پہلے سے اختیار کیے گئے مؤقف کا تسلسل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور میں ان کی جماعت کے ایک کارکن کو قتل کر کے ایک نشست چھین لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیں مارے بھی اور رونے بھی نہ دے، ہم نے مبینہ دھاندلی کے ثبوت پیش کیے ہیں، جن کا جواب ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی، تاہم پیپلز پارٹی نے بروقت معاملہ سامنے لا کر مبینہ دھاندلی کی سازش ناکام بنائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ منظور کرانے کے لیے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے بقول قومی مفاد اور کسی سیاسی جماعت کے مفاد میں واضح فرق ہونا چاہیے، اور پیپلز پارٹی صرف قومی مفاد میں تعاون کرے گی، نہ کہ کسی جماعت کے سیاسی مفاد کے لیے۔














