ایلون مسک کی ملکیت میں کام کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندیوں پر سخت عمل درآمد کے مجوزہ قوانین کو بین الاقوامی قانونی اصولوں اور رازداری کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے آن لائن سروسز اور ڈیجیٹل معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے آسٹریلوی حکومت کے ان منصوبوں پر شدید اعتراض کیا ہے جن کے تحت ملک کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر کو سوشل میڈیا کمپنیوں سے مزید معلومات اور دستاویزات طلب کرنے کے وسیع اختیارات دینے اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Musk's X says Australia social media ban crackdown undermines international law https://t.co/XQTZNKfpWV
— The Straits Times (@straits_times) July 29, 2026
رائٹرز کے مطابق ایکس نے آسٹریلوی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری مؤقف میں کہا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے تحت آسٹریلیا سے باہر موجود افراد یا اداروں کو بھی صرف کسی کمپنی سے وابستگی کی بنیاد پر معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا جا سکتا ہے، جو بین الاقوامی قانونی اصولوں اور دیگر ممالک کے قانونی دائرہ اختیار سے متصادم ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں شفاف قانونی عمل، شہریوں کی پرائیویسی، آن لائن خدمات اور آسٹریلیا کی ڈیجیٹل معیشت پر ممکنہ اثرات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے گزشتہ سال دنیا کا پہلا ایسا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون پر گوگل، ٹک ٹاک اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی کی ایلون مسک سے لڑائی کیا ہے اور 10 لاکھ ڈالر کا ہرجانے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
ایلون مسک اس سے قبل بھی اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ یہ دراصل تمام آسٹریلوی شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی پر بالواسطہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت اس کے اختیارات محدود ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے قوانین پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد تحقیقات کو مؤثر بنانا اور بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس بل پر ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، جبکہ سینیٹ کی کمیٹی 25 اگست کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔














