اوپن اے آئی نے ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI کے خلاف عدالت سے 10 لاکھ ڈالر قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دینے کی درخواست کر دی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ xAI کی جانب سے دائر کیا گیا ٹریڈ سیکریٹس کا مقدمہ بے بنیاد تھا جس کے دفاع پر اوپن اے آئی کو بھاری قانونی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ xAI نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کمپنی پر سابق ملازمین کے ذریعے خفیہ معلومات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
رپورٹس کے مطابق، سان فرانسسکو کی ایک وفاقی عدالت نے رواں سال xAI کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ اوپن اے آئی نے کسی غیر قانونی عمل یا خفیہ معلومات کے حصول کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
اوپن اے آئی کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ xAI نے پہلے مقدمہ دائر کیا اور بعد میں ثبوت تلاش کرنے کی کوشش کی جس کے باعث اوپن اے آئی کو ایک وسیع قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ الزامات کے حق میں کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پردہ پوش مسلمان خواتین کو کس طرح اے آئی کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے؟
اوپن اے آئی نے عدالت سے قانونی اخراجات کی وصولی کی درخواست اس وقت دائر کی جب xAI نے اعلان کیا کہ وہ مسترد کیے گئے دعووں کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔
ادھر اوپن اے آئی کو ایک اور قانونی چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایپل نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر کمپنی کے خفیہ ہارڈویئر ڈیزائنز، مینوفیکچرنگ کے طریقۂ کار اور مستقبل کی مصنوعات سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایپل کا دعویٰ ہے کہ اوپن اے آئی نے اس کے بعض ملازمین کو خفیہ معلومات، انجینئرنگ ڈرائنگز اور دیگر حساس دستاویزات شیئر کرنے کی ترغیب دی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کمالات: ایمیزون و دیگر بارانی جنگلات اب جائے بغیر بھی دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں
دوسری جانب ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سیم آلٹمین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’دھوکے باز‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر ایپل کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاحال اوپن اے آئی نے ایپل کے الزامات پر باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ مقدمات پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔














