ایران میں جنوری کے پرتشدد حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں 2 نوجوانوں کو منگل کے روز اصفہان کے ‘شہید علیکانی چوک’ میں سرِعام پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی اپوزیشن گروپ ‘نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران’ (NCRI) اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، منگل کے روز اصفہان کے مرکزی شہید علیکانی اسکوائر میں 2 نوجوانوں، ابوالفضل سپاہی باجانی اور امیر حسین صفاری حسین آبادی کو سرِعام پھانسی دی گئی۔
پھانسی کے موقع پر موجود شہریوں نے ’بے غیرت! بے غیرت!‘ کے نعرے لگا کر اس عمل کی شدید مذمت کی، جس کے بعد چھتوں اور اطراف کی سڑکوں پر پہلے سے تعینات سیکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
یہ بھی پڑھیے ایران نے ملک گیر مظاہروں میں گرفتار ہونے والے مزید دو افراد کو پھانسی دے دی
بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہنما مریم رجاوی نے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس سفاکانہ جرم پر عوامی غصے کے خوف سے رجیم نے ارد گرد کی سڑکوں اور چھتوں پر فورسز کا بھاری پہرہ بٹھا رکھا تھا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ پھانسی کی سزا عام لوگوں کی موجودگی میں علیکانی چوک میں دی گئی ہے۔
عدلیہ کے الزامات اور اپوزیشن کا موقف
ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی ‘میزان’ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو 8 جنوری کے مظاہروں کے دوران 4 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل، ‘محاربہ’ (خدا کے خلاف دشمنی)، ‘افساد فی الارض’، آتش زنی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے جرائم میں سزا سنائی گئی۔ حکام نے ان پر گرم گولا (مولوتوف کاک ٹیل) اور اسلحہ رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیے ایران میں امن بحال، لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ
دوسری جانب نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو اپنی پسند کا وکیل حاصل کرنے کا حق نہیں دیا گیا اور ان کے سرکار کی طرف سے مقرر کردہ وکلا کو بھی کیس فائلوں تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔ تاہم، عدلیہ نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سزا پولیس رپورٹس، موبائل فون کے ثبوت، گواہوں کے بیانات اور اعترافِ جرم کی روشنی میں دی گئی۔
علیکانی اسکوائر کیس اور اقوامِ متحدہ کا انتباہ
یہ واقعہ ‘علیکانی اسکوائر کیس’ سے متعلق ہے جس میں کل 12 مظاہرین کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سے قبل 19 جولائی کو عرفان اسفندیاری اور گل محمد محمدی کو بھی پھانسی دی جا چکی ہے، جس کے بعد اس کیس میں اب تک پھانسی پانے والے نوجوانوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کیس کے دیگر تمام ملزمان پر پھانسی کا تلوار لٹک رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان تمام نوجوانوں (جن کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان ہیں) کو بند کمرے کے ایک ہی ٹرائل میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے سزائیں سنائی گئیں۔
‘ہیومن رائٹس واچ’ کے مطابق گزشتہ 4 ماہ کے دوران ایران میں کم از کم 50 افراد کو قومی سلامتی کے نام نہاد الزامات کے تحت پھانسی دی جا چکی ہے۔
‘ایران ہیومن رائٹس’ کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا ’قرونِ وسطیٰ کی اس سرِعام پھانسی دینے کی روایت کو دوبارہ زندہ کر کے اسلامی جمہوریہ معاشرے میں خوف پھیلانے اور مستقبل کے مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ریاستی دہشتگردی کا ایک مکروہ روپ ہے جسے عالمی برادری کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہیے۔














