افغان میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے وطن واپس آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین طالبان حکومت میں شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت
رپورٹس کے مطابق صوبہ فراہ سمیت مختلف علاقوں میں آباد ہونے والے بے دخل افغان مہاجرین بے روزگاری، طبی سہولیات کی کمی اور انسانی امداد کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں۔ پڑوسی ممالک سے واپس آنے والے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید معاشی مشکلات درپیش ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے وطن واپس آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین طالبان حکومت میں شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔@HussainAhmedCh8 @KulAalam pic.twitter.com/PbmhByXYZs
— Media Talk (@mediatalk922) July 29, 2026
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت واپس آنے والے مہاجرین کو روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جبکہ اس کی توجہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے اقتدار کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ واپس آنے والے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد امدادی سرگرمیوں اور مقامی آبادی پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:طالبان وفد کی برسلز آمد کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید احتجاج
مہاجرین کے امور کے ماہر محمد جمال کے مطابق اگر طالبان حکومت نے فوری طور پر مہاجرین کے مسائل حل نہ کیے تو افغانستان کو بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپس آنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات طالبان حکومت کی انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔














