’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

جمعرات 30 جولائی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تئیں دنیا کے ایسے بزنس مین ہیں کہ ان جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اور یہ اس لحاظ سے شاید درست بھی ہے کہ 1991ء سے 2014ء تک ان کی 6 کمپنیاں دیوالیہ ہوئیں۔ ان کے کئی ٹرمپ ٹاور خالی کھڑے ہیں مگر ہیں وہ پھر بھی دنیا کے عظیم بزنس مین۔ اپنے عظیم بزنس مین ہونے کا یقین انہیں اس حد تک حاصل ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ایلون مسک بڑے بزنس مین ہیں یا وہ ؟ تو وہ پورے یقین سے کہہ دیں گے

’پیسہ ایلون مسک نے زیادہ کمایا ہے، مگر عظیم بزنس مین میں ہی ہوں، مجھ جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا‘۔

ان کی پروفائل کی نمایاں چیزوں میں سے ایک ان کا رئیالٹی شو اینکر ہونا ہے اور دوسرا مقابلہ حسن کا منتظم اعلیٰ ہونا۔ لیکن جب سوشل میڈیا دور آیا تو یہی وہ عرصہ تھا جب انہیں امریکا کا ایسا صدر بننے کا شوق بھی چڑھ گیا، جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو۔ یوں انہوں نے اس جانب پیشرفت بھی سوشل میڈیا کی مدد سے کی۔ اگرچہ سوشل میڈیا سنجیدہ اور مدبر قسم کے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے صارفیں کی غالب اکثریت جین زی کی ہے۔ یعنی وہ نالائق نسل جس کی نالائقی ایک سائنسدان ڈیٹا کی مدد سے امریکی کانگریس کے سامنے صرف کھول ہی نہیں چکا بلکہ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بھی ثابت کرچکا کہ یہ وہ نسل ہے جس کے دور طالب علمی میں کمپیوٹر نصاب کا حصہ بنا اور اسی نے اس نسل کو تعلیمی لحاظ سے بھی تباہ کیا اور شعور بھی تعمیر نہ ہونے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: شفاف انتخابات کا فریب

ہوا یہ کہ صدر ٹرمپ کی صورت میں امریکی جین زی کو اپنا عکس نظر آیا۔ یہ انسانی نیچر میں شامل ہے کہ وہ انہی کے ساتھ خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے جن کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی بھی ہو۔ سو صدر ٹرمپ جیسے ’قابل‘ آدمی سے جین زی نے خود کو ذہنی طور پر مکمل ہم آہنگ پایا۔ یوں وہ نئی نسل کے امریکیوں کے ہردلعزیز رہنما بن گئے۔ اور جب ایسا ہوا تو اب انہیں امریکا کا ایسا صدر بننے سے کیسے روکا جاسکتا تھا جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو؟

اگر آپ غور کریں تو صدر ٹرمپ کی سرگرمیاں اور ارشادات عالیہ سابق صدور کی طرح ان کی پریس کانفرنس یا وائٹ ہاؤس ترجمان کے ذریعہ مین اسٹریم میڈیا کو رپورٹ کرنے کا موقع بعد میں ملتا ہے، اور یہ سوشل میڈیا پر خود ٹرمپ کے اکاؤنٹ پر پہلے آجاتی ہیں۔ یوں میڈیا کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ بھی صدر ٹرمپ کی کسی سرگرمی کو رپورٹ کرتا ہے تو 80 فیصد یہی بتاتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا کاؤنٹ پر کیا کہا ؟

اگر آپ نے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو فالو کر رکھا ہو تو نوٹ کیا ہوگا کہ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیاں پاکستانی جین زی کے لیول کی ہیں۔ مثلاً اپنی شخصیت کو ٹارزن ٹائپ کی مخلوق ثابت کرنے کے لیے اپنی اے آئی تصاویر بنوا کر اپلوڈ کرنا۔ اسی طرح کے مواد سے خود کو سکندر اعظم ثابت کرنا وغیرہ۔

ان کی کابینہ کے اہم ارکان بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مثلاً ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا اپنی ایسی تصاویر جاری کرنا جن میں یا تو وہ کسی فلمی ہیرو کی طرح تالاب سے ابھرتے نظر آرہے ہوں یا پھر وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ پش اپس لگا رہے ہوں۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پیٹ ہیگستھ یہ تحقیق بھی فرما چکے ہوں گے کہ ان کے علاوہ دنیا کے کسی بھی وزیر دفاع کی اس طرح کی تصاویر موجود نہیں۔ اور ان سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا ہوگا کہ دنیا میں ان کے پائے کا احمق وزیر دفاع نہیں پایا جاتا، بلکہ نتیجہ یقیناً یہی رہا ہوگا کہ ان جیسا باصلاحیت وزیر دفاع کرہ ارض پر کہیں بھی موجود نہیں۔ حتیٰ کہ روس اور چین جیسی سپر طاقتوں کے پاس بھی نہیں۔ لہٰذا لازم ہے کہ انہیں ملکی دفاع کی نسبت سے بطور وزیر دفاع نہیں بلکہ ایک جارح کی حیثیت سے بطور وزیر جنگ دیکھا جائے۔

 ویسے یہ پش اپس والا سین ہمارے پاکستان میں بھی ایک عظیم رہنما کا سوشل میڈیا پر فخر کے کامل احساس کے ساتھ چلا تھا، اور خیر سے پیروکار ان کے بھی جین زی ہی ہیں۔ قدر مشترک سمجھ آیا ؟ یوں یہ سعادت صرف پاکستان کو ہی حاصل نہیں کہ ملک کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے ایک سابق کپتان  سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی حیثیت سے سربراہ حکومت بنا۔ بلکہ ان سے کچھ ہی عرصہ قبل صدر ٹرمپ خود کو امریکا کا پہلا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صدر منوا چکے تھے۔ مخصوص کلاس کے ان سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی سرگرمیاں اس بنیاد پر طے ہوتی ہیں کہ یہ بس یہ دیکھتے ہیں کہ جین زی کو کیا پسند ہے ؟ یا یہ کہ جین زی کو کیا چیز اپیل کرسکتی ہے؟ سو صدر ٹرمپ اپنے جین زی کو پہلا چورن یہ بیچا کہ وہ جنگ مخالف سوچ رکھتے ہیں۔

اب اتنی سی عقل تو جین زی کے پاس بھی تھی کہ جنگ میں فرنٹ لائن پر سب سے زیادہ نوجوان سپاہی، ہی قربان ہوتے ہیں، سو جین زی نے سوچا کہ آئیڈیا تو زبردست ہے کہ فوج میں بھرتی ہوکر وردی اور مراعات کے مزے تو لیے جاسکیں گے مگر قربان نہیں ہونا پڑے گا۔ یوں یہ نعرہ بے حد مقبول ہوا۔

اپنے پہلے دور صدارت میں انہوں نے اس پر عمل کرکے بھی دکھایا۔ مگر یہ مستقل پالیسی تو بن ہی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ امریکی معیشت میں ہی نہیں بلکہ سیاستدانوں کی جیبیں بھرنے میں بھی اسلحہ کارخانوں کا کلیدی رول ہے۔ اور ہتھیاروں کے کارخانوں کے لیے جنگ ناگزیر ہے۔ اسی لیے تو امریکا نے 250 سالہ تاریخ میں چھوٹی بڑی کل ملا کر 224 کے لگ بھگ ملٹری مہمات کر رکھی ہیں۔

یوں پہلی مدت صدارت میں جین زی کو خوش کرنے کے بعد اب باری تھی ’وار لابی‘ کو خوش کرنے کی۔ ٹارگٹ تو وہ سالوں قبل ہی چن چکے تھے۔ یعنی ایران مگر اس کی طرف جانے سے قبل جنگی نفسیاتی برتری کا حصول لازم سمجھا گیا۔ ایسی برتری حاصل کرنے کے لیے لاطینی امریکا سے زیادہ موزوں کوئی مقام نہیں۔ ہم کئی ماہ قبل وینزویلا کے حوالے سے لکھے کالم میں تفصیل سے عرض کرچکے لاطینی اقوام اپنے صدور اور وزرائے اعظم امریکا کے ہاتھوں فروخت کرنے کی وسیع تاریخ رکھتے ہیں۔ اور پھر آپ نے دیکھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو بھی اس شان سے امریکا کے ہاتھ بیچ ڈالے گئے کہ انہیں فروخت کرنے والے پوری بے فکری سے وینزویلا میں امریکی پٹھو کے طور پر حکومت کر رہے ہیں، اور وینزولا کے شہریوں کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔

مزید پڑھیے: ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

لگتا یوں ہےکہ نکولس مدورو کے اغوا کے لیے ہالیووڈ کے کسی اچھے فلم ڈائریکٹر کی ڈائریکشن میں نفسیاتی برتری کا اہتمام کر لیا گیا۔ اب یہ خود صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ بھی جانتی ہے کہ وہ آپریشن سب پروپیگنڈا اسٹنٹ تھا۔ مگر جین زی اور اس کی قیادت دنیا کے جس حصے کی بھی ہو، یہ غلطی ضرور کر بیٹھتی ہے کہ دوسروں کو متاثر کرنے کی بجائے خود ہی اپنے پروپیگنڈے پر یقین کر بیٹھتی ہے۔ سو صدر ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ سمیت سب یہ یقین کر بیٹھے کہ ایران مشن بس 92 گھنٹے کی گیم ہے۔جب بات ٹائم کی آجائے تو یہاں صدر ٹرمپ کی قسمت ہمیشہ خراب ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح وہ 24 گھنٹے اب تک پورے نہیں ہوئے جن کے اندر اندر صدر ٹرمپ نے یوکرین کی جنگ بند کرانی تھی، اسی طرح وہ 92 گھنٹے بھی پورے ہونے کا نام نہیں لے رہے جن کے دوران ایران مشن مکمل ہوجانا تھا۔ اور اسرائیلی طیاروں نے مستقل بنیاد پر پاکستان کی مغربی سرحد پر قیام اختیار کر لینا تھا۔ نیتن یاہو نے تو ایک دو بار پاکستان کا ذکر کرکے اشارہ بھی دیدیا تھا کہ اگلا ہدف کیا ہوگا۔ مگر آہ ٹارزن کے پاس ہتھیار اور پیٹرولیم ذخائر دونوں ختم ہوگئے۔

اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ جو ملٹری بیسز مشرق وسطیٰ میں 35 سال سے امریکا کی شان و شوکت بڑھا رہے تھے، وہی ریت کی دیوار ثابت ہونے لگے تو صدر ٹرمپ کو اپنے فیوریٹ فیلڈ مارشل یاد آگئے۔ لیکن جنگ لڑانے کے لیے نہیں بلکہ رکوانے کے لیے۔ اور فیوریٹ فیلڈ مارشل نے یہ مرحلہ سر بھی کروا دیا۔ صدر ٹرمپ نے اس کا صلہ اپنے فیوریٹ فیلڈ مارشل کو یہ دیا کہ اسلام آباد ایم او یو والے دستاویز کے ٹائٹل سے زبانی حد تک اسلام آباد حذف کروا دیا۔ لیکن ایران نے اپنے دستاویز پر اسلام آباد کو زندہ رکھا۔ جلد ہی واضح ہوا کہ اسلام آباد کو ٹائٹل سے کیوں نکلوایا گیا؟۔ ایم او یو بس اس مہلت کے لیے استعمال کیا گیا کہ کسی طرح متروک فوجی گوداموں میں بھی ڈھونڈ ڈھانڈ لیا جائے، کیا خبر ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ ہاتھ لگ جائے۔ اور کچھ تھوڑا بہت کچرا ہاتھ آ بھی گیا۔ یوں ٹارزن نے 92 گھنٹے والی گھڑی میں پھر سے سیل ڈال لیے۔ مگر 15 دن بعد بھی 92 گھنٹے مکمل نہ ہوسکے۔

مزید پڑھیں: کفالت نہیں، خود انحصاری

تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ اسلام آباد ایم او یو  سےاسلام آباد حذف کروانے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ امریکی صدر کو ایک بار پھر اپنے فیوریٹ فیلڈ مارشل کی یاد آئی ہے۔ دو اجنبی اور بظاہر غیر متعلق قسم کے امریکی اراکین کانگریس پنڈی جی ایچ کیو میں حاضری لگا کر گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل چیزوں کو صدر ٹرمپ کی طرح ذاتی انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔ انہوں نے ٹرمپ کے نمائندوں سے یہ نہیں پوچھا کہ ’اسلام آباد‘ کیوں حذف کیا تھا ؟ ان کی دلچسپی پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایم او یو کی 15 روزہ خلاف ورزی نے بیٹھے بٹھائے ایک نتیجہ یہ فراہم کردیا ہے کہ جو اڈے امریکا سے علاقے کے ممالک نے طویل بات چیت کے ذریعے خالی کروانے تھے۔ وہ ایران نے ان 15 دنوں میں صرف خالی ہی نہیں کروا لیے بلکہ مکمل طور پر ناقابل استعمال بھی بنا دیے ہیں۔ وہ بھی اس حد تک کہ باتھ رومز تک تباہ کر ڈالے ہیں۔ سو صدر ٹرمپ کے فیوریٹ فیلڈ مارشل ایک بار پھر امن کی راہ پر ہیں۔ غیب کے امور تو غیب والا ہی بہتر جانتا ہے۔ انسان فقط اندازے لگا سکتا ہے۔ سو اندازہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ جلد جین زی کو خوشخبری سنائیں گے کہ وہ ایسا امن حاصل کر کے لوٹے جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران چند ہفتوں میں چین سے سینکڑوں جدید فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے گا،رائٹرز کا دعویٰ، بیجنگ کی تردید

لامین یامال نے شکیرا اور جیرارڈ پیکے کا بیش قیمت عالی شان گھر خرید لیا

افغانستان کے سابق سیکیورٹی اہلکار اب بھی قتل، تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے خطرے سے دوچار، اقوام متحدہ

نریندر مودی دور میں شہری آزادیوں کی صورتحال مزید خراب، سوکس نے بھارت کو واچ لسٹ میں شامل کر لیا

موسلادھار بارشوں کا الرٹ، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ، فیصل آباد میں 2 بچے جاں بحق

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی