ہمارے غیر مستحکم سیاسی نظام نے جہاں اور بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں، وہیں اس کا ایک سنگین نتیجہ مستقل بیمار معیشت بھی ہے۔ بیمار معیشت کے اثرات اگر بالکل بھی نہیں پڑتے تو اس اشرافیہ پر نہیں پڑتے جو کسی نہ کسی صورت اقتدار میں شراکت دار ہے۔ زیادہ تفصیل میں کیا جانا، آپ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہیں اور مراعات ہی گوگل کر لیجئے۔
بیمار معیشت کے مہلک اثرات مڈل کلاس اور اس سے نیچے کے طبقات میں ہی واضح نظر آتے ہیں۔ یعنی وہ کٹیگریز جو ملکی آبادی کی اکثریت ہے۔ ان میں سے بھی مڈل کلاس والوں کو کم از کم یہ سہولت تو میسر ہے کہ ان کی چیخ و پکار کبھی کبھار سیاسی فضا میں اتنا ارتعاش پیدا کر دیتی ہے کہ وقت کا وزیر اعظم کوئی نیا سبز باغ دکھانے کچھ دیر کو ٹی وی پر آجاتا ہے۔ اور اپوزیشن بھی اس گرم تندور پر اپنے سیاسی نان سیک لیتی ہے۔
لیکن ایک طبقہ وہ بھی تو ہے جس کی آواز اعلیٰ ایوان چھوڑیئے مڈل کلاس تک کو سنائی نہیں دیتی۔ چنانچہ مڈل کلاس ہمیں یہی کہتی نظر آتی ہے کہ ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ میں آج کل کس کا گزارہ ہوتا ہے ؟ اور وہ نہیں جانتی کہ اس سے بہت نیچے ایک طبقہ وہ بھی ہے جو یہ سن کر حیرت میں ڈوب جاتا ہے، اور سوچتا ہے کہ ایک لاکھ ماہانہ تو اگر اسے مل جائیں تو وہ کوئی ٹھیک ٹھاک قسم کا کاروبار شروع کرلے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر زیر نظر سطور میں ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔
آفیشلی غربت کی کٹیگری والے افراد حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی کا 28 فیصد ہیں جو قریباً 7 کروڑ بنتے ہیں۔ جبکہ بعض بین الاقوامی ادارے یہ تعداد 45 فیصد تک بھی بتاتے ہیں۔ ان میں سے بھی پھر ایک کٹیگری ان مطلقہ یا بیوہ خواتین کی ہے جن کا کوئی کفیل نہیں اور حکومت ان کی کفالت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کرتی ہے۔ انہیں سہ ماہی بنیاد پر ایک محدود سی رقم فراہم کی جاتی ہے جو نئے مالی سال سے 18000 کی جا رہی ہے۔ اگر ان خواتین میں سے کوئی حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش پر بھی الاؤنس دیا جاتا ہے اور ان کے زیر تعلیم بچوں کی درسگاہ میں حاضری کی شرح اگر 70 فیصد یا اس سے اوپر ہو تو پھر تعلیمی الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کی تعریف ہی جاسکتی ہے، مگر اس کار خیر کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔
منفی لفظ سے چونکنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ کفالت ضروری ہے مگر مستقل انحصار پیدا کیے بغیر۔ گویا ہماری نظر میں یہ پروگرام تو اچھا ہے مگر یہ مستحقین انحصار کی مستقل لت میں نہیں پڑنے چاہئیں ورنہ ان کی اگلی نسل معاشرے کا فعال حصہ نہیں بن پائے گی۔ ظاہر ہے اگلی نسل سے ہماری مراد ان خواتین کے وہ بچے ہیں جو پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ محض مطلقہ یا بیوہ خواتین کے نہیں اس قوم کے ہی بچے ہیں۔ ہمارا اپنا اثاثہ ہیں۔ سو اگر بہت کم عمری سے ہی ان کی سوچ یہ بن گئی کہ ہر 3 ماہ بعد سرکار سے ایک رقم ملنا ہی معمول کی زندگی ہے تو یہ بچے اس شعور سے محروم رہ جائیں گے کہ سرمایہ ایک ایسی چیز ہے جو خون پسینہ بہانے سے میسر آتا ہے، اور جس کے لیے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔
یہ فلسفے کی ایک مشہور بحث ہے کہ سرمائے کا مستحق کون ہے؟ روسو سے لے کارل مارکس تک، اور مارکس سے لے کر شاہ ولی اللہ تک سب نے اس پر لمبی چوڑی مباحث کر رکھی ہیں۔ اسے سادہ ترین لفظوں میں شاہ ولی اللہ نے یوں پیش کیا ہے کہ سرمائے پر اسی کا حق جس نے اس کے لیے محنت کی ہو۔ اور حق بھی تنا ہی ہے جتنی محنت کی ہے۔ شاہ ولی اللہ اگلے قدم میں شاہی انعامات پر وار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’لہٰذا حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی خوشامدی یا شاعر کو انعام میں قومی خزانے سے رقم دے۔‘
سرمائے سے جڑی فلاسفی کا ہی تقاضا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اب اس مرحلے میں داخل کیا جائے جہاں یہ سرکاری رقم ایسی ثمر آور شکل اختیار کرلے کہ اسے وصول کرنے والی ہماری مائیں اور بہنیں سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ وہ محض سرکاری خیرات پر نہیں پل رہیں بلکہ آنے والی رقم اب ان کے خون پسینے کی کمائی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
ہم اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ ملک کے نہایت قابل احترام دانشور جناب احمد جاوید صاحب نے اپنی ایک ویڈیو میں کچھ عرصہ قبل یہ حیران کن انکشاف کیا تھا کہ ہمارے قومی لیجنڈ معین اختر مرحوم نے اپنی زندگی میں جتنا کچھ بھی کمایا تھا، اس کا قریباً 70 فیصد وہ مستحقین پر خرچ کرکے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اور وہ بھی یوں کہ کسی کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہونے دی۔ یعنی یہ نہیں کہ کسی ویڈیو یا تصویر میں معین اختر آٹے کی بوری اور گھی کے ڈبے تقسیم کرتے نظر آرہے ہوں۔ بلکہ یوں کہ وہ خود ہی مستحق خاندانوں کو ڈھونڈتے اور ان کے فعال افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق کوئی کاروبار شروع کروا دیتے۔ یعنی وہ غریب کو اپنا مستقل بھکاری بنا کر نہیں رکھتے بلکہ اسے یوں خود کفیل کردیتے کہ وہ کسی کا محتاج ہی نہ رہے۔ اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے ہی اپنی گزر بسر کرے۔ اگر اس ملک کا اتنا بڑا لیجنڈ صرف اور صرف اپنی ذاتی کمائی سے ہی چپ چاپ یوں زندگیاں بدل سکتا ہے تو حکومتوں کے تو وسائل اور اسباب بھی لامحدود ہوتے ہیں۔
ہم لوگوں کو مستقل خیرات پر رکھنے کے بجائے انہیں خود کفیل بنانے کی حکمت عملی کی وکالت اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ملتے جلتے پروگرام دنیا کے کئی ممالک میں شروع تو بہت اچھی طرح ہوئے مگر ہر جگہ اپنی موت آپ مرگئے۔ ایسے ممالک میں وینزویلا، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آپ صرف وینزویلا کی مثال ہی لے لیجئے۔ وہاں یہ پروگروام تب شروع ہوا جب تیل کی آمدنی شروع ہوئی، مگر جب امریکا نے ان کے تیل کی فروخت پر پابندیاں لگائیں تو کفالت اسکیم ہی سب سے پہلے اس کا شکار ہوئی۔
ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ فلاں ملک کا پروگرام کاپی کرلیا جائے۔ مثلا چین یا بنگلہ دیش وغیرہ کا پروگرام۔ کیونکہ ہر ملک کا ماحول اور سماجی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن ایک چیز ایسی ہے جس میں چینیوں سے سیکھا جا سکتا۔ مکرر عرض کر رہے ہیں کہ ہم کاپی پیسٹنگ کی بات نہیں کر رہے بس سیکھنے کا کہہ رہے ہیں۔ 2013 میں چین نے “Targeted Poverty Alleviation” پروگرام شروع کیا۔ اگر اس پروگرام کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ یہ ہوگا ’چین نے صرف پیسے نہیں بانٹے، آمدنی کے ذرائع پیدا کیے‘ انہوں نے پورے ملک میں ٹیموں کا ایک ایسا نیٹ ورک پھیلا دیا جسے بیجنگ کے ایک بڑے وار روم جیسے وسیع ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
سیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان کی زراعت کے شعبے والی ٹیمیں محض کسی دیہات کے گاؤں پر ہی فوکس نہیں کرتی تھیں بلکہ ایک ایک خاندان اور اس کے بھی ایک ایک فرد کو الگ سے بٹھا کر اس کی ذات سے متعلق سوالات کرتی تھی۔ مثلا سب سے کلیدی سوال یہ کہ تمہارے خیال میں تم غریب کیوں ہو؟ کیا زمین ناکافی ہے؟ زراعت کے ہنر میں کوئی کمزوری ہے؟ کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے پوری محنت نہیں کرپاتے؟ سڑک خراب ہے؟ اجناس منڈی تک بروقت نہیں پہنچ پاتیں، ضائع ہوجاتی ہیں؟ یا کچھ اور؟ اور یہ سب کوئی جرح نہ ہوتی بلکہ پوری ہمدردی کے ساتھ اس جڑ تک پہنچنے کی کوشش ہوتی جو کسی خاندان کی غربت کی وجہ ہوتی؟ اور جب ایک بار وجہ پکڑ میں آجاتی تو پھر حکومت اس وجہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی۔
یوں حکومت کی جانب سے چین کے پورے زرعی شعبے کا احاطہ کرتے ہوئے کسانوں کو بہتر بیج، جدید کاشتکاری، آبپاشی، کھاد کے درست استعمال اور بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت دی گئی۔ کئی علاقوں میں فصلوں کو مقامی حالات کے مطابق تبدیل کیا گیا تاکہ کسان زیادہ منافع بخش اجناس اگا سکیں۔چین نے صرف پیداوار بڑھانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ لاکھوں کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر کیں، پل بنائے اور دور دراز کے دیہات کو قومی شاہراہوں سے جوڑا۔ یوں جب کسان چند گھنٹوں میں اپنی پیداوار منڈی تک پہنچانے لگے تو ان کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
چین کے اس پورے پروگرام کا ہم محض ایک کالم میں احاطہ نہیں کرسکتے، کیونکہ اس میں ہر اس شعبے کو انقلابی تبدیلیوں سے گزارا گیا جس کا ملکی معیشت سے معمولی سا بھی کوئی تعلق ہوسکتا تھا۔ ہم نے بس زرعی شعبے کی ایک معمولی سی جھلک دکھائی ہے کہ انہوں نے اپنے غریب کو خود کفیل بنانے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی اور کتنی سنجیدگی کے ساتھ اختیار کی۔
انہوں نے ہماری طرح دیہاتی کو یہ نہیں کہا کہ تم بڑے شہر منتقل ہوجاؤ، وہاں تمہیں کوئی مشین چلانا سکھا دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے کہا کہ تمہارا دیہات میں ہونا چین کے لیے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ زراعت دیہات سے ہی آتی ہے۔ ہم تمہیں تمہارے گاؤں میں ہی زراعت کی مدد سے امیر بنا کر دکھائیں گے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک میں آج ایک بھی ایسا انسان نہیں جس کے پاس اپنی چھت نہ ہو اور وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری خیرات کا مستحق ہو۔
اس پروگرام کے تحت 96 لاکھ افراد تو وہ ہیں جنہیں ایسے علاقوں سے نکالا گیا جہاں رہائش اور جینے کے وسائل ایسے نہ تھے جنہیں ترقی دی جاسکتی۔ ان 96 لاکھ افراد کو بہتر رہائش و ترقی کے مواقع والے علاقوں میں حکومت نے ہی بسایا۔ چینی حکومت کے مطابق اس پروگرام کے تحت صرف 7 سال کے مختصر عرصے میں 9 کروڑ 89 لاکھ افراد کو غربت سے نکلا گیا۔ 832 اضلاع اور 1 لاکھ 28 ہزار دیہات غریب علاقوں کی فہرست سے خارج ہوئے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو 2021 میں اس پروگرام کی تکمیل کے موقع پر جاری کیے گئے تھے۔
حیرت ہوتی ہے کہ جب 2013 میں ہمارے ہاں کچھ لوگ اگلے سال کے لیے لانگ مارچ کے منصوبے بنا رہے تھے اور کچھ اس سے نمٹنے کی فکر میں تھے تو عین اسی سال چین نے یہ پروگرام شروع کرکے 2021 میں مکمل بھی کرلیا۔ اور ہم 2026 میں بھی لانگ مارچ والوں سے ہی الجھے بیٹھے ہیں۔ اور ان کا بھی کوئی حل نہیں نکال پا رہے۔ ایسے میں غریب بیچارے کے مسائل کا حل کہاں سے ترجیح بن سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













