امریکا نے مصر کی بندرگاہ پر امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر پر حملے کے بعد ایران میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
امریکا نے بدھ کی شب ایران میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔ یہ کارروائی مصر کی بحیرۂ روم میں واقع بندرگاہ دمیاط پر امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر پر حملے کے چند گھنٹوں بعد کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی فوجیوں پر حملہ کیا ہے، اس لیے اب جواب دینے کی باری امریکا کی ہے۔
انہوں نے کہا، اب ہماری باری ہے، ہم ایران کو بہت سخت نشانہ بنائیں گے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ واشنگٹن اب بھی تہران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران کا امریکی فوج پر اچانک میزائل حملہ ناکام، تمام بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کرنے کا دعویٰ
ٹرمپ نے اس خبر کا بھی ذکر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کو ممکنہ طور پر چین میں تیار کردہ میزائل نظام فراہم کیے جا رہے ہیں۔
درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، امریکی فوج
امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بدھ کی شب واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 10 بجے (0200 جی ایم ٹی) شروع ہونے والی کارروائی 2 گھنٹے بعد مکمل کر لی گئی۔
بیان کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مراکز کے علاوہ بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات شامل تھے۔
سینٹکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایران کی جانب سے کیے گئے تمام حملے کامیابی سے ناکام بنا دیے گئے۔
رہائشی علاقے پر حملہ، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حملے میں جزیرہ قشم کے علاقے چاہ تنگو میں ایک رہائشی مکان تباہ ہو گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم اور پریس ٹی وی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ قشم جزیرے میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تسنیم کے مطابق شہر میں 3 زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کی ایران کو سخت حملے کی دھمکی، مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اعلان
ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی فوج نے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیوں میں شہری علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا جاتا۔
مصر کی بندرگاہ پر امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا
قبل ازیں برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ مصر کی بحیرۂ روم میں واقع بندرگاہ دمیاط پر امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ایک ڈرون نے نشانہ بنایا۔
مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی، تاہم اپنے بیان میں ڈرون حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ حملے کی ذمہ داری بھی فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی۔
جنگ مزید وسیع، ایران کا اعتراف
ایران نے رات گئے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ تہران نے عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی پیشکش بھی مسترد کر دی۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز فروری میں اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی بمباری کی مہم شروع کی۔ صدر ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کارروائی چند ہفتوں تک محدود رہے گی، تاہم جون میں ہونے والی عارضی جنگ بندی آبنائے ہرمز پر دوبارہ جھڑپوں کے بعد ختم ہوگئی، جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اب اس اہم آبی گزرگاہ پر اس کا کنٹرول ہے۔













