بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ چند ہفتوں میں چین سے کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے سینکڑوں جدید فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ 6 سے 7 کروڑ ڈالر مالیت کا ہے، تاہم چین نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جبکہ پاکستان نے بھی اسلحے کی ترسیل میں اپنے کردار کی سختی سے تردید کی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ چند ہفتوں میں چین سے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے جدید فضائی دفاعی میزائلوں (MANPADS) کی پہلی کھیپ وصول کرے گا۔ ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت ایران کو 300 سے 400 تک چینی ساختہ QW-12 اور FN-16 میزائل فراہم کیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 6 سے 7 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔
Iran to get Chinese shoulder-launched missile systems in weeks: report https://t.co/u6fsUUno6W pic.twitter.com/oLZyR1YG0u
— New York Post (@nypost) July 29, 2026
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ہانگ کانگ میں قائم کمپنی ’ژونگ چِنگ باؤ شَانگ انٹرنیشنل اِنویسٹمنٹ‘ کے ذریعے طے پایا، جس نے مبینہ طور پر ایرانی خریدار اور چینی سپلائر کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے مختصر فاصلے کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کی حالیہ برسوں کی بڑی کوششوں میں سے ایک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی نے ایران کے دفاعی نظام کی کمزوریاں نمایاں کی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی منصوبے کے تحت یہ میزائل مغربی چین کے شہر ارومچی سے روانہ کیے جائیں گے اور ایران تک پہنچانے کے لیے زمینی یا فضائی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے راستے ترسیل کا بھی دعویٰ کیا گیا، تاہم پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس دعوے کو من گھڑت اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، جنگ کا دائرہ مصر تک پھیل گیا
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے بھی رائٹرز کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور خطے میں استحکام کے فروغ کی حمایت کرتا آیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق QW-12 اور FN-16 ایسے جدید میزائل ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں چھوٹے فوجی دستے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں، جس سے یہ روایتی فضائی دفاعی نظام کے مقابلے میں زیادہ لچکدار ثابت ہوتے ہیں۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ اگرچہ معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم ترسیل کی تاریخ، مقدار اور دیگر انتظامی معاملات میں اب بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ ایران نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس معاہدے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔














