سعودی عرب نے پاکستان کے پاس موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مزید 3 سال کے لیے رول اوور کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے رواں مالی سال میں پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
سعودی عرب نے پاکستان کے پاس موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مزید 3 سال کے لیے رول اوور کر دیے ہیں، جس سے ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام میں اہم سہارا ملے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیشرفت کی تصدیق کی، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کے اس فیصلے سے رواں مالی سال 2026-27 کے دوران بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی عرب تعلقات میں بڑی پیشرفت، ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان کی خواہش کا اظہار
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مجموعی ضرورت گزشتہ مالی سال کے 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر رواں مالی سال میں 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جس کی ایک وجہ عالمی سطح پر شرح سود میں کمی بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران تقریباً 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوں گے، جبکہ مجموعی بیرونی قرضوں میں تقریباً 12 ارب ڈالر مرکزی بینک میں رکھے گئے ڈپازٹس پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے 8 ارب ڈالر سعودی عرب کے ڈپازٹس ہیں، جن میں سے 5 ارب ڈالر پہلے ہی مزید 3 سال کے لیے رول اوور کر دیے گئے ہیں، جبکہ باقی رقوم دسمبر 2026 اور مارچ 2027 میں میچور ہوں گی۔
جمیل احمد نے کہا کہ جولائی 2026 کے دوران پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی، تاہم آئندہ مہینوں میں ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے، جن میں گزشتہ مالی سال کے دوران خریدے گئے تقریباً 9 ارب ڈالر بھی شامل ہیں، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم پاکستان کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، پاک سعودی عرب مضبوط اقتصادی شراکت داری کا اعادہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 17 جولائی 2026 تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.6 ارب ڈالر تھے، جن میں 17.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک جبکہ 5.4 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہے، جبکہ مرکزی بینک آئندہ بھی ممکنہ بیرونی معاشی جھٹکوں، خصوصاً عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔














