سپریم کورٹ کے رجسٹرار سہیل لغاری نے مقدمات کی فکسیشن پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عدالتی امور میں شفافیت لانے کے لیے اب تمام مقدمات ‘فکسیشن پالیسی 2026’ کے تحت ہی سماعت کے لیے مقرر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر کوئی مقدمہ نہیں لگایا جاتا اور سزائے موت سے متعلق تمام زیرِ التواء اپیلوں پر فیصلے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ایک سال مکمل، سپریم کورٹ میں کیا کچھ بدلا؟
شفاف فکسیشن پالیسی اور ڈیجیٹائزیشن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریس بریفنگ کے دوران رجسٹرار سہیل لغاری نے بتایا کہ عدالتِ عظمیٰ میں تمام کیسز کو ڈیجیٹائزیشن کے ساتھ ساتھ جدید بنیادوں پر کیٹیگرائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے عہدہ سنبھالنے کے وقت مقدمات کی کوئی کیٹیگرائزیشن موجود نہیں تھی جو کہ ایک انتہائی مشکل ٹاسک تھا، تاہم تمام کیس فائلوں کو اسکین کر کے دسمبر 2025 تک کیٹیگرائزیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ اس اہم پیشرفت کے بعد اپریل 2026 میں باضابطہ ‘فکسیشن پالیسی’ جاری کی گئی۔
زبانی احکامات کا خاتمہ اور کیسز کے فیصلے
رجسٹرار سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالتی طریقہ کار کو شفّاف بناتے ہوئے زبانی احکامات پر مقدمات لگانے کا سلسلہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تمام مقدمات صرف ‘ارلی ہیئرنگ’ (Early Hearing) یا ‘فکسیشن پالیسی’ کے مقررہ ضوابط کے تحت ہی بینچوں کے سامنے سماعت کے لیے پیش ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال، سائلین کو 23 ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں زیر التواء رہنے کے باعث نچلی عدالتوں میں ٹرائل رک جاتے تھے، جنہیں حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
سزائے موت کی اپیلوں پر تاریخی پیشرفت
رجسٹرار سہیل لغاری نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ اور شریعت اپیلیٹ بینچ میں دسمبر 2025 تک سزائے موت کے تمام زیر التواء مقدمات اور اپیلوں پر فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔
نئی فکسیشن پالیسی کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پالیسی کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے اب تک8062 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے۔جبکہ ان میں سے 6216 مقدمات کا کامیابی سے فیصلہ کیا جا چکا ہے۔














