پاکستان کی نجی گیس کمپنی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی نے گیسٹیک 2026 میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو شہری علاقوں میں گیس ذخیرہ کرنے اور زیادہ طلب والے صنعتی و رہائشی مراکز کے لیے نجی پائپ لائن نیٹ ورک قائم کرنے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی۔
تھائی لینڈ میں ہونے والی گیسٹیک 2026 نمائش میں پاکستان کی نمائندگی پہلی بار ہوئی، جہاں یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی نے عالمی توانائی کمپنیوں کے ساتھ اپنا اسٹال لگایا۔ نمائش میں 150 ممالک شریک ہیں جبکہ 8 ہزار مندوبین اور ایک ہزار نمائش کنندگان شرکت کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے نجی پیداواری کمپنیوں کو گیس فروخت کرنے کی باضابطہ اجازت دیدی
یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا کہ حکومت نے گیس کی پیداوار کا 35 فیصد نجی شعبے کو دینے کی پالیسی کا اعلان کیا ہے، جو گیس کی تقسیم کے شعبے میں نجی شرکت اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی غیرملکی سرمایہ کاری اور براہ راست کاروباری شراکت داری کے ذریعے پاکستان کی توانائی مارکیٹ کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ نجی گیس تقسیم کا نیٹ ورک گیس کے نقصانات کم کرکے صارفین کو سستی گیس کی فراہمی میں مدد دے گا۔
غیاث عبداللہ پراچہ کے مطابق کمپنی نے 3 غیرفعال گیس فیلڈز کو دوبارہ فعال کیا ہے جہاں خام گیس کو پائپ لائن کے معیار کی گیس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ عالمی شراکت داروں، جن میں امریکا کی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں، کے ساتھ گیس صاف کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور غیر استعمال شدہ ذخائر کو قومی گیس نظام میں شامل کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا گیس شعبے میں اصلاحات کا منصوبہ، سوئی کمپنیوں کی تقسیم اور نجکاری پر غور
انہوں نے کہا کہ کمپنی موسمی قلت اور گیس کے دباؤ میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے تجارتی بنیادوں پر زیر زمین گیس ذخیرہ کرنے کی سہولتیں قائم کرنے کے ساتھ سازگار عالمی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہے۔
غیاث پراچہ نے بتایا کہ کمپنی زیادہ مقدار میں گیس استعمال کرنے والی صنعتی اکائیوں اور بڑے رہائشی منصوبوں کے لیے مخصوص نجی پائپ لائن بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات کم کیے جاسکیں۔
ان کے مطابق کمپنی ایکسن موبل، قطر انرجی، کونوکو فلپس اور ٹریفیگورا سمیت عالمی اداروں کے ساتھ سابقہ معاہدوں کی بنیاد پر مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت حکومتی سبسڈی کے بغیر نجی سرمایہ سے ہوگی، جبکہ پائپ لائن ٹرانزٹ فیس اور ٹیکسوں کے ذریعے ریاست کو آمدنی اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کے ہنرمند نوجوانوں نے گیس لیکیج ڈیٹیکٹر ایجاد کر لیا
پاکستان کی بینکاک میں سفیر سعدیہ قاضی نے بھی گیسٹیک نمائش میں یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے اسٹال کا دورہ کیا۔ انہوں نے کمپنی کی شرکت کو عالمی سطح پر پاکستانی کاروبار کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کم کاربن حل کا استعمال پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔













