نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹرز کی جانب سے چینی نژاد رکنِ پارلیمنٹ کو ’اپنے ملک واپس جانے‘ کا طعنہ دینے پر ویلنگٹن میں مقیم چینی سفیر اور نیوزی لینڈ کے اعلیٰ سفارت کار کے درمیان شدید سفارتی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں کووڈ-19 (Covid-19) وبائی امراض سے نمٹنے کے اقدامات پر بحث جاری تھی کہ گرین پارٹی کے چینی نژاد رکنِ پارلیمنٹ لارنس شو نان نے پاپولسٹ پارٹی ‘این زیڈ فرسٹ’ کے سربراہ اور وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز سے سوال کیا ’کیا آپ نے ویکسین لگوائی ہے؟
اس سوال پر برہم ہو کر 79 سالہ ونسٹن پیٹرز نے چین کے شہر تیانجن میں پیدا ہونے والے اور آکلینڈ میں پرورش پانے والے قانون ساز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص تو ابھی پانچ منٹ پہلے یہاں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ‘اپنے ملک واپس چلی جاؤ،’ برطانیہ میں بھارتی خاتون کے ساتھ زیادتی اور نسل پرستی کا واقعہ
وزیرِ خارجہ نے مزید سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ’اپنے ملک واپس چلے جاؤ! وہاں لوگ چپ چاپ جھوٹ بولتے ہیں، لیکن یہاں ایسا نہیں چلتا۔ اسے جمہوریت کہتے ہیں، اس نظام کے برعکس جس کے تم عادی ہو! جہاں سے آئے ہو وہیں واپس لوٹ جاؤ، بدزبان!‘
چینی سفیر کا ردِعمل اور وزیرِ خارجہ کا جواب
نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم کے اس متنازع بیان پر چین کے سفیر وانگ شیاؤ لونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر غیر معمولی ردِعمل کا اظہار کیا۔ چینی سفیر نے لکھا کہ اگرچہ وہ اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کرتے، لیکن یہ کہنا کافی ہوگا کہ بعض اوقات کوئی بیان جس شخص کے منہ سے نکلتا ہے، وہ اسی کی شخصیت اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
We have absolutely no interest in being dragged into the domestic politics of other countries. Suffice it to say, sometimes, a statement says more about the person that makes it than anything or anybody else.
— Wang Xiaolong (@AmbChina2NZ) July 29, 2026
چینی سفیر کے اس تبصرے پر ونسٹن پیٹرز نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ سفیر کے بیان نے ان کے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے ‘ایکس’ پر لکھا ’ہم ایک ایسے جمہوری نظام میں رہتے ہیں جہاں اظہارِ رائے کی آزادی اور حقوق میسر ہیں۔ یہ وہ دو قدریں ہیں جنہیں بعض دیگر ممالک نہ صرف محدود کرتے ہیں بلکہ طاقت کے زور پر دباتے ہیں۔ اگر یہ بات ان نازک طبع لوگوں اور کمیونسٹ ایجنٹوں کو بری لگتی ہے جو اسے ‘خطرناک’ قرار دے رہے ہیں تو نیوزی لینڈ میں خوش آمدید!‘
The Chinese Ambassador’s comments have just proven the point I made in the House yesterday.
No amount of pearl clutching and faux outrage is going to change it.
We live in a democracy that includes free speech and rights – those two values that other certain countries not…
— Winston Peters (@winstonpeters) July 30, 2026
نسل پرستانہ بیانات کا ماضی
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ونسٹن پیٹرز اور ان کی جماعت جو نیوزی لینڈ کے سیاسی نظام میں ‘کنگ میکر’ کا کردار ادا کرتی ہے، کو نسل پرستانہ بیانات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
اس سے قبل رواں سال ہی ونسٹن پیٹرز کے نائب شین جونز نے بھارت کے ساتھ نیوزی لینڈ کے آزادانہ تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ملک میں ’بٹر چکن کا سونامی‘ آ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے آسٹریلیا: مسلمان سینیٹر کو ’پاکستان واپس جاؤ‘ کہنے پر پالین ہینسن کی اپیل مسترد
گزشتہ سال پارلیمانی بحث کے دوران نائب رہنما نے ایک اور رکنِ پارلیمنٹ فرانسسکو ہرنینڈز کو ’میکسیکینز کو واپس ان کے گھر بھیجو‘ کا نعرہ لگایا تھا، جس پر پیٹرز اور جونز کو بعد میں معذرت کرنا پڑی تھی۔
پیٹرز نے اس وقت ہرنینڈز (جو درحقیقت فلپائن میں پیدا ہوئے تھے) اور لارنس شو نان کو نیوزی لینڈ میں رہنے پر ’احسان مند ہونے‘ کی ہدایت بھی کی تھی۔













