آسٹریلیا: مسلمان سینیٹر کو ’پاکستان واپس جاؤ‘ کہنے پر پالین ہینسن کی اپیل مسترد

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے پیر کے روز انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی معروف سیاستدان اور سینیٹر پالین ہینسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ان کے پاکستانی نژاد مسلمان سینیٹر مہرین فاروقی کے خلاف دیے گئے بیان کو نسلی امتیاز پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔

سخت امیگریشن پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں اپنے مؤقف کے باعث مقبول سینیٹر پالین ہینسن نے 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد مہرین فاروقی کے ایک بیان پر سخت ردِعمل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں خواتین کھلاڑیوں کو امتیازی سلوک کا سامنا، اقوام متحدہ نے کیا حل بتایا؟

گرینز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر مہرین فاروقی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ایسی نسل پرست سلطنت کی سربراہ کے انتقال پر سوگ نہیں منا سکتیں جو نوآبادیاتی اقوام کی جانوں، زمینوں اور وسائل پر قائم کی گئی تھی۔

اس پر پالین ہینسن نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ تم نے آسٹریلیا آ کر اس ملک کے تمام فوائد حاصل کیے، شہریت لی، کئی گھر خریدے اور پارلیمنٹ میں ملازمت حاصل کی۔

’اگر تم خوش نہیں ہو تو اپنا سامان باندھو اور پاکستان واپس چلی جاؤ۔‘

مہرین فاروقی کی شکایت پر آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے 2024 میں قرار دیا تھا کہ ہینسن کا یہ بیان ’نسل پرستی کی ایک شدید شکل‘ ہے اور یہ آسٹریلیا کے نسلی امتیاز سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: مبینہ نسلی امتیاز کے الزامات پر مانچسٹر پولیس کے 8 افسران معطل

کیونکہ اس سے نہ صرف مہریں فاروقی بلکہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں اور تارکین وطن سمیت رنگ و نسل کی بنیاد پر مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی توہین، تذلیل اور خوف کا باعث بننے کا امکان تھا۔

پالین ہینسن نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور متعلقہ قانون آئینی طور پر بھی درست نہیں، تاہم عدالت نے پیر کے روز ان کی اپیل مسترد کر دی۔

عدالتی فیصلے کے بعد ہینسن نے کہا کہ انہیں ملکہ الزبتھ کی وفات کے روز سینیٹر مہرین فاروقی اور دیگر افراد کے بیانات پر شدید غصہ آیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک یہ مرحوم ملکہ کی بے حرمتی تھی، اور وہ صرف اسی رویے کی نشاندہی کرنا چاہتی تھیں۔

واضح رہے کہ پالین ہینسن کی جماعت ون نیشن گزشتہ چند برسوں میں عوامی مقبولیت میں نمایاں اضافہ حاصل کر چکی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی، ایشیائی اور سیاہ فام شہریوں کو امتیازی سلوک کا سامنا

حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ آسٹریلیا کی مقبول سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔

پالین ہینسن سرکاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی، امریکہ کے محکمۂ حکومتی کارکردگی کی طرز پر اصلاحات اور آسٹریلیا کی بین الاقوامی تنظیموں میں رکنیت پر نظرثانی کی بھی حامی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp