یورپی فٹبال کی تنظیم یوئیفا نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیفا نے ورلڈ کپ سمیت اپنے بڑے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت کے منصوبے پر عمل کیا تو یورپ کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے گی۔
یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک یہ تجویز مکمل طور پر واپس نہیں لی جاتی اور اس بات کی ضمانت نہیں دی جاتی کہ آئندہ فیفا اپنے انتظامی ڈھانچے یا مقابلوں میں نجی ملکیت کی اجازت نہیں دے گا، اس وقت تک یوئیفا کی رکن قومی ٹیمیں فیفا کے مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا کا اربوں ڈالرز کمانے کا نیا متنازع منصوبہ، یوروپی فٹ بال ایسوسی ایشن کا شدید ردِعمل
تنظیم نے کہا کہ ’ورلڈ کپ کوئی سرمایہ کاری کی مصنوعات نہیں، نہ ہی اسے نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں۔‘
فیفا نے 29 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ وہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) کے نام سے ایک تجارتی ذیلی ادارہ قائم کرنا چاہتا ہے، جو ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں کے تجارتی معاملات سنبھالے گا۔
اس منصوبے کے تحت نجی سرمایہ کار کمپنی میں اقلیتی حصص خرید سکیں گے۔ فیفا کو امید ہے کہ اس منصوبے سے تقریباً 4.2 ارب ڈالر حاصل ہوں گے، جبکہ کمپنی کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔
اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو فیفا کی 211 رکن تنظیموں میں سے ہر ایک کو 2027 کے آغاز میں 20 ملین ڈالر کی ایک مرتبہ ادائیگی کی جائے گی، جبکہ 2027 تا 2030 کے مالیاتی دور کے لیے ان کی سالانہ معاونت 8 ملین ڈالر سے بڑھا کر 20 ملین ڈالر کردی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انگلش فٹ بال کلب مانچسٹر سٹی نے پہلی بار ’یوئیفا چیمپئنز لیگ‘ کا ٹائٹل جیت لیا
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس منصوبے کو عالمی سطح پر فٹبال کی ترقی کے لیے ’سنہری موقع‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب یوئیفا کا کہنا ہے کہ فٹبال کا مستقبل ایسے سرمایہ کاروں کے مفادات کے تابع نہیں ہو سکتا جن کی پہلی ترجیح صرف مالی منافع ہو۔ تنظیم کے مطابق قومی ایسوسی ایشنز، لیگز، کلبوں، کھلاڑیوں اور شائقین کے مفادات کو سرمایہ کاروں کے منافع پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔
یوئیفا نے مزید کہا کہ یہ تجویز خفیہ طور پر تیار کی گئی اور رکن ممالک سے بامعنی مشاورت کے بغیر منظوری کے قریب پہنچا دی گئی، جو عالمی فٹبال کی نگرانی کی ذمہ دار تنظیم کے لیے قیادت کی ناکامی ہے۔
ادھر یورپ کی کئی فٹبال فیڈریشنز اور یورپی یونین کے حکام بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، جبکہ شمالی، وسطی امریکا اور کیریبین فٹبال کنفیڈریشن (کانکاکاف) اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے بھی اعتراض کیا ہے کہ رکن ممالک سے مکمل مشاورت سے پہلے ہی اس منصوبے کو عوام کے سامنے پیش کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوزانو بیٹھے دعا مانگتے کرسٹیانو رونالڈو کا کلپ وائرل ہوگیا
اسی طرح افریقی فٹبال کنفیڈریشن (سی اے ایف) نے بھی اپنے رکن ممالک سے اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔
یوئیفا نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’ورلڈ کپ فٹبال کی مشترکہ میراث ہے، یہ ہمیشہ فٹبال ہی کا رہے گا، اور جب تک یورپ کی آواز موجود ہے، اسے کبھی فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘














