یورپی یونین کی جانب سے گوگل پر ایک بار پھر تقریباً 890 ملین یورو (1.02 ارب ڈالر) کا جرمانہ عائد کیے جانے کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بھاری مالی سزائیں گوگل کی مضبوط مارکیٹ پوزیشن کو متاثر کرنے کے لیے کافی نہیں۔
یورپی کمیشن نے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کی خلاف ورزی پر گوگل کے خلاف تازہ کارروائی کی ہے۔ تاہم گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ کے مالیاتی نتائج کے مطابق کمپنی روزانہ تقریباً 1.32 ارب ڈالر کی آمدنی اور 690 ملین ڈالر سے زائد خالص منافع حاصل کرتی ہے جس کے باعث یہ جرمانہ اس کی مالی حیثیت پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل جیمنی کی اے آئی تصاویر سے نمایاں واٹر مارک ہٹانے کی سہولت متعارف کرا سکتا ہے
گزشتہ ایک دہائی کے دوران یورپی ریگولیٹرز گوگل پر اینڈرائیڈ، گوگل شاپنگ، اشتہاری ٹیکنالوجی اور ایڈسینس سے متعلق مقدمات میں مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب یورو کے جرمانے عائد کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود گوگل سرچ، اینڈرائیڈ، گوگل پلے اور آن لائن اشتہارات کے شعبوں میں کمپنی کی برتری برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی نئی حکمت عملی صرف جرمانے عائد کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروباری طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت گوگل سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ایسے قواعد نافذ کیے گئے ہیں جن کا مقصد منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا اور صارفین کو زیادہ انتخاب فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا گوگل اپنی سرچ سروس، ایپ اسٹور اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسے عملی اقدامات کرتا ہے جو مسابقتی کمپنیوں کے لیے زیادہ مساوی مواقع پیدا کریں، کیونکہ صرف مالی جرمانے کئی دہائیوں میں قائم ہونے والی مارکیٹ برتری کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کے تازہ جرمانے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی یونین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کر رہی ہے جبکہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا اب تک کا سب سے دلچسپ فیچر، صارفین سیلفی سے لاگ ان ہوسکیں گے
ماہرین کے مطابق یورپ اس وقت یہ جانچ رہا ہے کہ آیا مسلسل ضابطہ جاتی قوانین کے ذریعے ڈیجیٹل مارکیٹوں میں حقیقی مسابقت پیدا کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس تجربے کے نتائج نہ صرف یورپ بلکہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مستقبل کی ریگولیٹری پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔














