سرگودھا سے تعلق رکھنے والی پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرکے نہ صرف کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی بنا لیا بلکہ وہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بھی بن گئی ہیں۔
پاکستان ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان فاطمہ زہرا کا سفر مشکلات سے بھرپور رہا۔ ان کے والد ثاقب نور، جو سرگودھا کے ایک سرکاری اسپتال میں کلاس فور ملازم ہیں، محدود آمدنی کے باعث ڈیوٹی کے بعد باربی کیو کا اسٹال لگاتے تھے، جہاں فاطمہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ بعد ازاں والد نے اپنی بیٹیوں کو باکسنگ کی تربیت دلائی اور ہر مشکل کے باوجود ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
Fatima Zahra secured Pakistan’s first medal at the Commonwealth Games after defeating New Zealand’s Jordan Wilson 5-0 in the women’s 60kg boxing quarterfinal, booking her place in the semifinals.
She thanked Allah for the achievement and said she hopes her journey inspires more… pic.twitter.com/FrROUSZwSe
— TOK Sports (@TOKSports021) July 29, 2026
فاطمہ نے 2018 میں باکسنگ کا آغاز کیا۔ اپنے پہلے مقابلے میں شکست کے باوجود ہمت نہ ہاری اور 2021 سے 2025 تک مسلسل قومی ٹائٹلز اپنے نام کیے۔ وہ 2025 کے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں کانسی کا تمغہ بھی جیت چکی ہیں۔
مزید پڑھیں:کراٹے کمبیٹ چیمپیئن شپ، پاکستانی کک باکسر عبداللہ چانڈیو نے اردنی حریف کو شکست دیدی
گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں فاطمہ نے پہلے لیسوتھو کی ریلیبوہ سیگیوٹی اور پھر نیوزی لینڈ کی تجربہ کار جارڈن ولسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اب ان کا مقابلہ کینیڈا کی میری المہدیہ سے ہوگا، جہاں کامیابی انہیں کم از کم چاندی کے تمغے کی دوڑ میں شامل کر دے گی۔














